بھٹکل 27 مئی (ایس او نیوز) : بھٹکل میں ازسرِ نو تعمیر کئے گئے ’مُورین کٹے‘ کو منہدم کئے جانے کے معاملے پر سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ بی جے پی نے منگل کے بعد بدھ کو بھی پریس کانفرنس منعقد کرتے ہوئے کانگریس حکومت پر سخت تنقید کی، جبکہ کانگریس نے جوابی حملہ کرتے ہوئے بی جے پی پر اس معاملے کو سیاسی فائدے کے لئے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
بی جے پی ضلعی صدر این۔ ایس۔ ہیگڑے نے بھٹکل میں پارٹی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ نو تعمیر شدہ مُورین کٹے کی مسماری کے خلاف 29 مئی کو ایک عظیم احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس احتجاج میں ریاستی بی جے پی صدر بی۔ وائی۔ وجییندرا، اپوزیشن لیڈر آر۔ اشوک، رکن پارلیمان وشویشور ہیگڑے کاگیری سمیت کئی سرکردہ رہنما شریک ہوں گے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ نئے تعمیر شدہ مُورین کٹے کو منہدم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے، واقعہ کے خلاف احتجاج کرنے والے بی جے پی کارکنوں کو ہی پولیس نے حراست میں لیا اور ان کے خلاف مقدمات درج کئے۔ انہوں نے ہندو کارکنوں کے خلاف درج مقدمات فوری واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔
ادھر، بدھ کے روز بھٹکل پہنچنے والے رکن پارلیمان وشویشور ہیگڑے کاگیری نے الزام لگایا کہ کچھ عناصر بھٹکل جیسے پُرامن شہر میں نفرت اور کشیدگی کا ماحول پیدا کرکے امن و امان کو خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس کی موجودگی میں ہزاروں مسلمانوں کے جمع ہونے کے دوران جو واردات پیش آئی وہ قابل مذمت ہے۔ کاگیری نے مطالبہ کیا کہ حکومت خود مُورین کٹے کی دوبارہ تعمیر کرائے، بصورت دیگر تنظیموں کو اس کی تعمیر نو کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے واقعہ کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔
پریس کانفرنس کے آغاز میں کاگیری نے شرالی میں پیش آئے سانحہ میں جان گنوانے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت نے بھی متاثرین کے لئے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اس سانحہ کی جامع تحقیقات کرانے اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے احتیاطی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
اس موقع پر سابق وزیر شیوانند نائک، سابق رکن اسمبلی سنیل نائک، بی جے پی منڈل صدر لکشمی نارائن نائک، بی جے پی مہیلا مورچہ ضلعی صدر شیوانی شانتارام، سمیت دیگر پارٹی قائدین موجود تھے۔