لندن، 25/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) آرٹیفیشیل انٹیلی جنس (اے آئی) نے قانون کے شعبے میں اپنا بڑا کمال دکھایا ہے۔ دنیا میں پہلی بار ’اے آئی چیٹ بوٹ‘ نے عدالت میں انسانی وکیل کو شکست دے کر تقریباً 8.79 لاکھ روپے کا کیس جیت لیا۔ یہ سماعت برطانیہ میں ہوئی۔ وہاں اے آئی پاورڈ لا فرم نے انسانی وکیلوں کا مقابلہ کیا۔ ’گارفیلڈ اے آئی‘ نام کے لیگل چیٹ بوٹ نے 7 ہزار پاؤنڈ کا چھوٹا کیس جیت کر نئی لکیر کھینچ ہے۔ یہ لکیر اس مستقبل کی بنیاد کو مضبوط کر سکتی ہے جس میں اے آئی چیٹ بوٹ مضبوطی سے عدالت کی کارروائی میں حصہ لیں گے۔
بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال آیا ہوگا کہ اے آئی کے کیس جیتنے پر اس نے کتنی فیس لی ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق ’گارفیلڈ اے آئی‘ نے ’تامیریس کمال تاکیدیر‘ نامی ایک فری لانس ایچ آر کا کیس لڑا۔ واضح رہے کہ برطانیہ میں قانونی لڑائی لڑنے کے لیے بھاری بھرکم فیس لگتی ہے۔ لیکن اے آئی نے یہ کام محض 400 پاؤنڈ یونی تقریباً 50 ہزار روپے میں کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق کیس جیتنے سے قبل ’گارفیلڈ اے آئی‘ نے قانونی کام خود سے مکمل کیا۔ کیس سے منسلک ڈاکیومنٹس تیار کیے۔ پھر اس نے عدالت میں بحث کرنے کے لیے ایک انسانی جونیئر وکیل کی خدمات حاصل کیں۔ برطانیہ کی ’وینڈز ورتھ کاؤنٹی کورٹ‘ میں گزشتہ ماہ میں ہوئی سماعت کے دوران عدالت میں 3 گھنٹوں تک بحث چلی اور آخرکار فیصلہ گارفیلڈ اے آئی کے کلائنٹ کے حق میں آیا۔ وکلاء نے بعد میں قبول کیا کہ گارفیلڈ اے آئی نے جو ڈاکیومنٹ کیس لڑنے کے لیے تیار کیے وہ انتہائی درست اور بہترین تھے۔
واضح رہے کہ یہ کیس بھلے ہی ایک اے آئی چیٹ بوٹ نے جیتا ہو، لیکن اس کی اپنی حدود ہیں۔ اے آئی نے کیس فائل تو تیار کی لیکن عدالت میں جرح انسانی وکیل نے کی۔ گارفیلڈ ابھی صرف 10 ہزار پاؤنڈ تک کے دعووں سے منسلک کیس ہی لڑتا ہے۔ حالانکہ وہ کسی لا فرم کے مقابلے بہت کم فیس چارج کرتا ہے۔ دنیا میں پہلی بار جب سکی اے آئی وکیل نے انسانی وکلاء کی مخالفت کے باوجود کیس جیتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ عدالتی کیسوں میں اے آئی کا شامل ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ امریکہ میں پہلے سے ہی اس پر کام ہو رہا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک میں عدالتی کیسوں میں اے آئی ٹولز کی مدد لی جانے لگی ہے، لیکن عدالتی کارروائی تک اے آئی کا پہنچنا اور اپنے بالکل درست ڈاکیومنٹس کے ذریعے کیس جیتنا ایک نئی شروعات ہے۔