پٹنہ:30/نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)وزیراعلیٰ نتیش کمار سے منسلک پنڈارک قتل معاملہ کو لے کر پٹنہ ہائی کورٹ میں 14 دسمبر کو اگلی سماعت ہوگی۔ واضح ہو کہ وزیراعلیٰ نتیش کمار پر 27 سال پہلے لگے قتل کے الزام کو منسوخ کرانے کی عرضی پر سماعت ہونی ہے۔ ہائی کورٹ کے جج اے امان اللہ اس عرضی پرسماعت کر رہے ہیں۔ غور طلب ہے کہ 16 نومبر 1991 کو باڑھ لوک سبھا سیٹ کے لئے ہوئے ضمنی انتخابات کے دوران ایک پولنگ سٹیشن پر کانگریس کارکن اور ڈھیبر گاؤں کے رہائشی سیتارام سنگھ کا قتل کر دیا گیا تھا ۔ سیتارام سنگھ قتل کیس کے گواہ ان کے بھائی اشوک سنگھ نے باڑھ کے جوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت میں ایک شکایت دائر کرکے الزام لگایا تھا کہ باڑھ پارلیمانی ضمنی انتخابات کے دوران 16 نومبر 1991 کو وہ سیتارام سنگھ سمیت دوسروں کے ساتھ ووٹ ڈالنے گئے تھے۔ تبھی وہاں نتیش کمار جو اس وقت جنتا دل کے امیدوار تھے، دلارچندیادو سمیت دیگر لوگوں کے ساتھ پہنچے اور انہیں ووٹ ڈالنے سے منع کرنے لگے۔اشوک سنگھ نے اپنے شکایتی مکتوب میں کہا تھا کہ نتیش کمار کے ساتھ اس وقت کے اس وقت کے مکامہ اسمبلی دلیپ سنگھ، دلارچند یادو، یوگیندر پرساد اور بودھ یادو موجود تھے۔ وہ سب کے سب بندوق، رائفل اور پستول سے لیس تھے۔ اشوک سنگھ نے الزام لگایا تھا کہ ان لوگوں کی طرف سے ووٹ دینے سے روکے جانے پر جب سیتارام نے ان کی بات نہیں مانی تو نتیش نے انہیں جان سے مارنے کی نیت سے اپنی رائفل سے گولی چلا دی، جس سے ان کی جائے حادثہ پر ہی موت ہو گئی۔گواہ اشوک سنگھ کی شکایت پر باڑھ کے اس وقت کے نائب چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ رنجن کمار نے 31 اگست 2010 کو گواہ کے بیان پر جرم پینل کوڈ 202 کے تحت نتیش کمار کو عدالت کے سامنے گذشتہ 9 ستمبر کو حاضر ہونے کی ہدایت دی تھی۔ بعد میں نتیش کمار کی طرف سے اس معاملے میں پٹنہ ہائی کورٹ کا رخ کئے جانے پر عدالت نے باڑھ ڈویژن عدالت کے مذکورہ حکم پر روک لگا دی تھی۔ اسی معاملے پر 14 دسمبر کو پٹنہ ہائی کورٹ میں سماعت ہوگی ۔