بنگلورو۔11؍مارچ(ایس او نیوز) اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں غیر متوقع اور غیر معمولی کامیابی حاصل کرنے کے بعد بی جے پی کی توجہ اب جنوبی ریاست کرناٹک پر مرکوز ہوگی۔ اگلے سال ریاستی اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں ، ان انتخابات میں بی جے پی 2013میں گنوائے ہوئے اقتدار کو دوبارہ حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کرے گی۔
رواں سال کے آخر میں گجرات اسمبلی کیلئے بھی انتخابات ہوں گے، اس کیلئے بی جے پی کے قومی صدر امیت شا اور وزیر اعظم مودی کی طرف سے تیاریاں شروع کردی گئی ہیں، اس کے ساتھ ہی کرناٹک پر بھی اقتدار پر قبضہ کرنے بی جے پی تیاری شروع کردے گی۔ بتایاجاتاہے کہ پچھلے دو تین دنوں سے ہی اترپردیش میں بی جے پی کے اقتدار پر آنے کے متعلق خفیہ رپورٹوں کے بعد بی جے پی نے آنے والے دنوں میں دوسری ریاستوں کی طرف توجہ دینے کی تیاری شروع کردی تھی۔ امیت شا جن کو میدان میں اتار کر مودی نے اترپردیش میں پارٹی کی بھاری جیت یقینی بنائی تھی، پارٹی کے قومی صدر کو مودی کرناٹک کی ذمہ داری بھی سونپ کر یہاں پارٹی کو برسر اقتدار لانے کی ہدایت دیں گے۔ یہ خدشات ظاہر کئے جارہے تھے کہ نوٹ بندی کی وجہ سے عوام بی جے پی کا ساتھ نہیں دیں گے، لیکن اترپردیش کے نتائج نے ان تمام خدشات کو بے بنیاد ثابت کردیا۔ یوپی کی جیت کے ساتھ کرناٹک کے بی جے پی قائدین کے حوصلے بھی کافی بلند ہوچکے ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ یوپی کا نتیجہ آنے والے دنوں میں کرناٹک کے حالات کا نقیب ہے۔ یوپی اور اتراکھنڈ کی مصروفیات سے آزاد ہونے کے بعد بتایا جاتاہے کہ امیت شا اپنے کرناٹک کے دورے اور قیام کا سلسلہ آگے بڑھائیں گے اور وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق کرناٹک کی حکمت عملی وضع کریں گے۔ کہاجاتا ہے کہ اترپردیش میں کامیابی کے بعد وزیراعظم نے ایک بہت بڑے اعلان کا وعدہ امیت شا سے کیا تھا، اب قیاس کیاجارہاہے کہ اس وعدہ کے مطابق مودی ملک بھر کے کسانوں کی طرف سے قومی بینکوں کے ذریعہ لئے گئے قرضہ کو معاف کرنے کا اعلان کرنے والے ہیں۔ اگر وزیر اعظم کی طرف سے اس طرح کا کوئی اعلان کیاگیا تو کرناٹک بی جے پی کو کانگریس حکومت کے خلاف ایک مضبوط ہتھیار ہاتھ آجائے گا، کیونکہ بینکوں کے ذریعہ قرضہ حاصل کرنے والے کسانوں کا اوسط تقریباً 90فیصد ہے، حکومت کی طرف سے اگر کوآپریٹیو اداروں کے ذریعہ لئے گئے قرضہ جات کی معافی کا اعلان بھی کیاجاتا ہے تو اس سے صرف دس فیصد کسانوں کو فائدہ ہوگا، قومی بینکوں کا قرضہ معاف کردیا گیا تو 90 فیصد کسانوں کی ہمدردیاں بی جے پی کے ساتھ ہوسکتی ہیں۔