واشنگٹن،10؍مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)امریکی فوج کی جانب سے کی گئی تفتیش سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوری میں یمن میں القاعدہ کی ایک شاخ کو نشانہ بنائے جانیکی کارروائی کے دوران، امریکی افواج کے ہاتھوں چار سے 12شہریوں کی ہلاکت واقع ہوئی۔ یہ بات امریکی فوج کے جنرل جوزف ووٹل نے بتائی ہے، جو مشرق وسطیٰ میں بیرون ملک امریکی فوجی کارروائیوں کے کمانڈر ہیں۔ووٹل نے، جو امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ ہیں،جمعرات کے روز سینیٹ کی مسلح افواج کی کمیٹی کی سماعت کے دوران بتایا کہ شہریوں کی ہلاکت کا تعین دستیاب بہترین ذرائع کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ جنرل نے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے خلاف اِس مشن کی ذمہ داری قبول کی۔
ووٹل نے کہا ہے کہ اِس آپریشن میں ہمارا بہت سا نقصان ہوا۔ وہ چھاپے کے دوران امریکی بحریہ کے سیل، رائن اونز کی ہلاکت کے واقعے کا حوالہ دے رہے تھے، جب وی 22 اوسپرے لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہوا جس میں سولین سوار تھے۔چند قانون سازوں نے جنوری میں مارے گئے اِس چھاپے کے بارے میں امریکی افواج کی جانب سے اکٹھے کردہ ڈیٹا پر سوال اٹھائے، جس کارروائی کا صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اختیار دیا تھا۔ووٹل نے حاصل کردہ ڈیٹا کے بارے میں پینٹاگان کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے، قانون سازوں کو بتایا کہ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے خلاف فوج کو چند قابل قدر اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔جنرل نے مزید کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کی اِس کارروائی کے حوالے سے کسی مزید چھان بین کی ضرورت باقی ہے۔چھاپے کے دوران، وی 22اوسپرے طیارہ گر کر تباہ ہوا، جس کی مالیت تقریباً سات کروڑ ڈالر ہے، جس معاملے پر احتساب کے تعین کے سلسلے میں چھان بین جاری ہے۔حالیہ دِنوں کے دوران، امریکی فوج نے یمن میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے خلاف اب تک 40سے زیادہ فضائی کارروائیاں کی ہیں۔ پینٹاگان کے ترجمان، نیوی کپتان جیف ڈیوس نے بتایا ہے کہ تازہ ترین فضائی کارروائی کا مقصد جزیرہ نما عرب کی القاعدہ کو مزید دہشت گرد بھرتی کرنے سے روکنا ہے۔