نئی دہلی:14/مئی (ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا)جمعےۃ علمائے ہندنے یروشلم میں باضابطہ امریکی سفارت خانہ کے افتتاح کو عالمی رائے عامہ کی توہین قرار دیا ہے اور امریکی صدرکے اس رویہ خخخﷺ خود سری سے تعبیر کیا ہے۔ اس سلسلے میں جمعےۃ علما ء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ امریکہ، بین الاقوامی قوانین ورائے عامہ اور اقوام متحدہ کے متفقہ فیصلے کو نظر انداز کرکے کچھ حاصل نہیں کرپائے گا بلکہ اس کے برعکس وہ خطے میں بے چینی اور اضطراب کا ذمہ دار ہو گا۔ مولانا مدنی نے کہا کہ1967ء میں اسرائیل نے ناجائز طور سے یروشلم پر قبضہ کیا تھا، اب امریکہ کا یہ فیصلہ اس ناجائز قبضے کو درست ٹھہرانے کے متراد ف ہے جس سے یہ صاف ہو گیا ہے کہ امریکہ کو مشرق وسطی میں امن کے قیام سے کوئی مطلب نہیں ہے۔مولانامحمودمدنی نے بالخصوص حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ حسب سابق امریکہ کے اقدام کی واضح الفاظ میں مذمت کرے اور قدیم پالیسی کااعادہ کرے کہ بھارت ایک ایسے آزاد فلسطین کی وکالت کرتا ہے جس کی راجدھانی یروشلم ہو۔واضح رہے کہ جمعےۃ علما ء ہند قبلہ اول کی بازیابی کے لیے روزاول سے ہر جد وجہد میں شامل ہوتی رہی ہے اور مستقبل میں بھی ہر ممکن سطح پر کرتی رہے گی۔گزشتہ سال ماہ دسمبر امریکی صدر کے اعلان کے بعد جمعےۃ علماء ہند نے بھارت کے مذہبی، سیاسی، سماجی رہ نماؤں اور سفارت کاروں کو مدعو کرکے اس کے خلاف احتجاج درج کیا تھا، اس کے علاوہ ملک کے گیارہ سو قصبات اور شہروں میں اس کے خلاف ریکارڈ احتجاج بھی کیاتھا۔