نئی دہلی11مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے نتائج آچکے ہیں۔بی جے پی نے جہاں اترپردیش کی403نشستوں میں312سیٹیں حاصل کرکے شاندارفتح حاصل کی وہیں اس نے اتراکھنڈمیں بھی 57سیٹیں حاصل کرکے کانگریس کواقتدارسے بے دخل کردیا اس طرح دونوں ریاستوں میں سیکولر پارٹیاں ڈھیر ہوگئیں اور بھگوا جھنڈے ہر طرف لہراتے نظر آئے۔ سب سے زیادہ چونکانے والے نتائج ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست اُترپردیش سے برآمد ہوئے جس نے بھگوا میڈیا کے ذریعے پیش کئے گئے ایگزٹ پول کے دعوئوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا اور تین سو سے زائد نشستیں بھگوا پارٹی کو ملنے پر ملک کے سیکولر عوام کو بھی سخت تشویش میں مبتلا کردیا۔
اُدھر پنجاب میں شرومنی اکالی دل کے ساتھ بی جے پی کی کراری شکست ہوئی اورپنجاب کی 117نشستوں میں بی جے پی کومحض تین سیٹیں ملیں اوراس کی اتحادی شرومنی اکالی دل کو15سیٹوں پراکتفاکرناپڑا۔کانگریس نے پنجاب میں77سیٹیں لاکرمضبوط واپسی کی جس کے ساتھ ہی امریندرسنگھ کاوزیراعلیٰ بنناطے ہوگیا۔ اوربی جے پی کاکانگریس مکت بھارت کانعرہ بھی فلاپ ہوگیا۔وہیں گوابھی بی جے پی کے ہاتھ سے پھسل گیا۔گوامیں بی جے پی کو13اورکانگریس کو17سیٹیں حاصل ہوئیں۔کانگریس پنجاب میں اقتدارمیں واپسی کے ساتھ ہی منی پورکااقتداربچاسکتی ہے ۔منی پورمیں کسی کوواضح اکثریت نہیں ملی ہے تاہم کانگریس اقتدارکے قریب ہے جہاں اس کی سرکارکے امکانات ہیں۔
اُترپردیش کے مایوس کن نتائج کے بعدوزیراعلیٰ اکھلیش یادونے گورنرکواستعفیٰ سونپ دیاہے، مگر مایاوتی نے ووٹنگ میں گڑبڑی کاخدشہ جتاتے ہوئے الیکشن کمیشن جانے کی بات کہی ہے۔اترپردیش کی403سیٹوں میں سے بی جے پی نے 312سیٹوں پرکامیابی حاصل کی وہیں کانگریس ،سماجوادی اتحادبری طرح پچھڑگیا۔کانگریس کے کھاتہ میں سات سیٹیں گئیں اورسماجوادی پارٹی کو47سیٹیں ملیں جب کہ بہوجن سماجوادی پارٹی کوصرف19سیٹوں پراکتفاکرناپڑا۔ان کے علاوہ راشٹریہ لوک دل کوایک،اپنادل کو9،عام دل کوایک اوربھارتیہ سماج پارٹی کو4نشستیں ملیں اورتین سیٹوں پرآزادامیدوارکامیاب ہوئے۔
پنجاب کی بات کریں تو ریاست کی 117نشستوں میں کیپٹن امریندرسنگھ کی قیادت میں کانگریس کو واضح اکثریت حاصل ہوئی ہے۔کانگریس نے 73سیٹیں جیتیں، ریاست کی حکمران اکالی-بی جے پی اتحاد کے کھاتہ میں 18نشستیں ہی گئی ہیں۔عام آدمی پارٹی، جسے اس بار مضبوط دعویدار بتایا جا رہا تھا اسے 20نشستیں ملی ہیں۔تاہم پہلی بار ریاست کے انتخابات میں اترنے والی کسی پارٹی کے لئے یہ بھی کسی کامیابی سے کم نہیں ہے۔اتراکھنڈ میں بھی عوام نے بی جے پی کے سر پر سہرا باندھا ہے۔ریاست کی کل 70سیٹوں میں سے56نشستوں کے ساتھ بی جے پی کو دو تہائی سے زیادہ اکثریت حاصل ہوئی ہے۔وہیں کانگریس کو 11سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑا ہے۔دو سیٹوں سے الیکشن لڑنے والے وزیراعلی ہریش راوت دونوں ہی جگہ سے الیکشن ہارگئے ہیں۔جب کہ دوآزادامیدوارکامیاب ہوئے ہیں۔گوا میں کانٹے کی ٹکررہی۔بی جے پی کے وزیراعلیٰ سمیت سنیئروزراء بھی ہارگئے۔ کانگریس کو 17سیٹیں ملی ہیں جبکہ بی جے پی کو13سیٹیں ملی ہیں اورواضح اکثریت کسی کونہیں ملی۔وزیر اعلی لکشمی کانت پارسیکر انتخابات ہار گئے ہیں جبکہ نائب وزیر اعلی فرانسس ڈیسوزا انتخابات جیت گئے۔گوامیں ان کے علاوہ این سی پی کوایک ،مہراشٹروادی کو3،گوافاروڈپارٹی کو3اور 3آزادامیدوارکامیاب ہوئے ہیں۔منی پور میں بھی صورت حال گوا جیسی ہی ہے۔وہاں بھی کانگریس اور بی جے پی کے درمیان زبردست مقابلہ دکھائی دیا۔ کانگریس کو28،بی جے پی کو21اورترنمول کانگریس کوایک سیٹ ملی ہے ۔علاوہ ازیں ناگاپیپلزفرنٹ کو4،لوک جن شکتی پارٹی کوایک ،نیشنل پیپلزپارٹی کو4اورایک آزادامیدوارکامیاب ہوئے ہیں۔وزیراعلی ابوبی سنگھ کو ٹکر دینے اتریں اروم شرمیلاانتخابات ہارگئی ہیں۔
اتر پردیش کی شکست مجروح کرنے والی: کانگریس
اتر پردیش کی ہار سے دلبرداشتہ ہونے کی بات قبول کرتے ہوئے کانگریس نے آج کہا کہ کچھ بنیادی تنظیم نو اور حکمت عملی میں کچھ سخت فیصلے لینے کی ضرورت ہے۔اپوزیشن پارٹی نے اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں فتح کے لئے بی جے پی اور وزیر اعظم کو مبارک باد دی،ساتھ ہی پنجاب اور گوا میں اپنی برتری کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی کارکردگی کو لے کر تجزیہ کرے گی۔کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے کہاکہ جی ہاں، اتر پردیش میں بڑا نقصان ہوا ہے، یہ ٹھیس پہنچانے والا ہے، میں اس سے متفق ہوں کہ اتر پردیش میں کانگریس کو مجموعی طور پر بنیادی سطح پر تبدیلی کرنے کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے، یہ سخت ہوگا اور حکمت عملی کے بارے میں سخت فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ پارٹی کے چیف ترجمان رندیپ سرجیوالا نے کہا کہ وہ اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں شکست کی وجہ کے بارے میں تجزیہ کریں گے، ساتھ ہی پارٹی کو مضبوط کرنے کے لئے خود کوپھر سے مرکوز کریں گے اور لوگوں کے مفادات کاتحفظ کریں گے۔انہوں نے کہاکہ ہم بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کو اتراکھنڈ اور اتر پردیش میں جیت کی مبارک باد دیتے ہیں، ہم دونوں ریاستوں کے لوگوں کے مینڈیٹ کو قبول کرتے ہیں۔ کانگریس جیت میں ہوش نہیں کھوتی اور شکست سے مایوس نہیں ہوتی۔
راہل گاندھی کا قد کم نہیں ہو گا:یوپی نتائج پر دگ وجے سنگھ کا رد عمل
کانگریس کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ نے ہفتہ کو کہا کہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی ناقص کارکردگی کو دیکھتے ہوئے پارٹی نائب صدر راہل گاندھی کا قد کم کئے جانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔سنگھ نے کانگریس کی اعلی قیادت میں تبدیلی کو لے کر سوال کے جواب میں میڈیا سے کہاکہ راہل گاندھی کا قد کم کئے جانے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔انہوں نے کہاکہ نہرو۔گاندھی خاندان کانگریس کی یکجہتی کے لحاظ سے اہم ہے اور راہل ہی اس کی قیادت کر سکتے ہیں۔بی جے پی کے اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں جیتنے کے پیش نظر سنگھ نے اعتراف کیا کہ کانگریس کو علاقائی سطح پر نئی قیادت کی ضرورت ہے۔سنگھ نے کہاکہ میں نے پہلے بھی کہاہے کہ ہمیں ریاستوں میں نئی قیادت کی ضرورت ہے،جن ریاستوں میں ہماری علاقائی قیادت مضبوط نہیں ہے، وہاں ہمیں فیصلہ کن فیصلے لینے کی ضرورت ہے۔
ملائم سنگھ کی قیادت میں ایسی شرمناک ہار نہیں ہوتی: امر سنگھ
راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ امر سنگھ نے اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو کی قیادت کی صلاحیت اور کانگریس کے ساتھ اتحاد کے فیصلے پر سوال کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ اگر سماج وادی پارٹی ملائم سنگھ یادو کی قیادت میں انتخابات میں اتری ہوتی تو اتنی شرمناک ہار نہیں ہوتی اور پارٹی کم سے کم 125 سیٹوں پر جیت درج کرتی۔ ملائم سنگھ نے ہفتہ کو صحافیوں سے بات چیت میں اکھلیش یادو پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اکھلیش کو بغیر جدوجہد کی اکثریت کی حکومت والد سے وراثت میں ملی جسے وہ سنبھال نہیں پائے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں سماج وادی پارٹی کی شکست کے بعد ہی اگر ملائم نے کمان سنبھال لی ہوتی تو آج اتنی شرمناک ہار نہیں ہوتی، کم سے کم بری سے بری حالت میں بھی 125 سے 130 نشستیں سماج وادی پارٹی کی آتیں۔ انہوں نے کہا کہ ملائم کی قیادت میں پارٹی کانگریس کے ساتھ کبھی اتحاد نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد کی وجہ سے 105 نشستیں بیکار گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ملائم کی قیادت میں پارٹی نے کبھی بھی اتنا براانجام نہیں دیکھا۔ کلیان سنگھ کے ساتھ ملائم سنگھ کے اتحاد کو سماج وادی پارٹی کی تاریخ میں بدترین وقت قرار دیتے ہوئے امر سنگھ نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے لئے سب سے برا وقت وہ تھا جب پارٹی نے کلیان سنگھ کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔ اس وقت اعظم خان پارٹی سے نکال دیے گئے تھے اور اعظم نے پارٹی کے خلاف مسلم ووٹروں میں پروپیگنڈہ کیا کہ مسجد توڑنے والوں کے ساتھ مسجد بچانے والے مل گئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مسلم ووٹر بڑی تعداد میں ایس پی سے چھٹک گئے تھے۔باوجود اس کے بدترین منتقلی دور میں بھی ایس پی کے 24 ممبران پارلیمنٹ تھے۔
کارکردگی سے مایوس، تجزیہ کرنے کا وقت: عام آدمی پارٹی
عام آدمی پارٹی نے آج کہاکہ وہ پنجاب اور گوا میں اپنی کارکردگی سے مایوس ہے اور وہ شکست کے وجوہات پرغورکرے گی۔امیدوں کے مطابق پارٹی کی پنجاب میں اچھی کارکردگی نہیں رہی جہاں اسے شرومنی اکالی دل اور کانگریس کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا تھا،ساتھ ہی گوا میں بھی ایسی ہی صورت حال ہے جہاں آپ سے ایک سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی تھی۔آپ کے سینئر لیڈر آشوتوش نے کہا کہ ہم نتائج سے مایوس ہیں،ہم اس خراب کارکردگی کی وجوہات پرتبادلہ خیال کریں گے۔آپ لیڈر اور دہلی کے وزیر کپل مشرا نے کہا کہ پارٹی کو پنجاب اور گوا میں اس طرح کے نتائج کی امید نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ اس کی امید نہیں تھی اور اس کا جائزہ لینے کا وقت ہے،تاہم مشرا نے کہا کہ پارٹی نے قومی سطح پر اپنا اثر چھوڑا ہے۔صبح ووٹوں کی گنتی شروع ہونے کے ساتھ ہی آتشیں مارلینا،آشوتوش اور پارٹی کے دوسرے سینئر لیڈر کجریوال کے گھر گئے۔پارٹی نے فلیگ اسٹاف روڈ پر ترنگے کے رنگ والے غبارے اور ساتھ ہی براہ راست نتیجہ دیکھنے کے لئے ایل ای ڈی پردے لگا رکھے تھے۔فلیگ اسٹاف روڈ پر وزیر اعلی کا سرکاری گھر ہے۔پارٹی کارکنان بھی کجریوال کے گھر کے باہر جمع ہوئے تھے لیکن پارٹی دونوں میں سے کسی بھی ریاست میں جیت کی راہ سے دور ہونے کے رجحان آنے کے بعد بھیڑ گھٹتی چلی گئی۔آپ نے پنجاب اور گوا میں اپنی پوری طاقت اور وسائل لگا دئے تھے۔کجریوال نے خود گزشتہ چند ماہ میں پنجاب میں 95سے زائد ریلیاں کی تھیں۔