نئی دہلی، 3 ؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )اگلے سال پانچ ریاستوں میں ہونے جا رہے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ہائی کورٹ کے جج اگلے ماہ سیاست کو جرائم زدہ اور الیکشن آپریشن میں الیکشن کمیشن کے نگرانی کے کردار کی حدود پر گفتگو کریں گے۔بھوپال کی قومی عدالتی اکیڈمی ’الیکشن قانون پر عمل درآمد ‘پر اگلے ماہ ہائی کورٹ کے ججوں کی ایک سالانہ کانفرنس کا انعقاد کر رہی ہے۔اس دو روزہ کانفرنس میں الیکشن کمیشن کی نگرانی اور ریگولیشن کے حلقہ اختیار کے دائرے اور اس کی حدوں جیسے مسائل پر بحث ہوگی۔انتخابات کے دوران حکمراں جماعت کی طرف سے سرکاری مشینری کا غلط استعمال کئے جانے سے متعلق الزامات کے پیش نظر، کانفرنس میں الیکشن میں سرکاری مشینری کے غلط استعمال سے منسلک قانونی مسودے کے معاملے پر بھی بات چیت کی جائے گی۔الیکشن کمیشن کی انتخابی اصلاحات سے متعلق کئی تجویز حکومت کے پاس زیر التوا ہیں۔ایسے میں جج انتخابی اصلاحات کے تئیں عدلیہ کی شراکت پر بھی بات چیت کریں گے۔سپریم کورٹ نے 10؍جولائی 2013کے اپنے فیصلے میں عوامی نمائندگی قانون کی دفعہ 8 کی ذیلی دفعہ 4 کو منسوخ کر دیا تھا۔اس دفعہ کے تحت موجودہ ایم پی، ایم ایل اے اور کونسلر مجرم ٹھہرائے جانے کے خلاف اونچی عدالت میں اپیل زیر التوا رہنے تک نااہلی سے بچ سکتے ہیں۔چونکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اس وقت قانون ہے، اس لیے بدعنوانی سمیت کچھ معاملات میں قانون سازوں کو مجرم ٹھہرائے جانے کی وجہ سے وہ کسی بھی قانون ساز ایوان کے ممبر کے عہدے کے لیے فوری طور پر نااہل ہو جاتے ہیں۔گوا، منی پور، پنجاب اور اتراکھنڈ کی اسمبلیوں کی موجودہ مدت اگلے سال مارچ میں ختم ہو رہی ہے، وہیں اتر پردیش اسمبلی کی موجودہ مدت اگلے سال مئی میں مکمل ہو جائے گی ۔ حکومت ہند کی طرف سے امدادیافتہ قومی عدالتی اکیڈمی 1993میں قائم ایک آزاد سوسائٹی ہے۔ہندوستان کے چیف جسٹس قومی عدالتی اکیڈمی کی جنرل اسمبلی کے ساتھ ہی اس کی آپریشن کونسل، ایگزیکٹو کمیٹی اور اکیڈمک کونسل کے صدر ہیں۔