احمد آباد:30/نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مہاراشٹر میں مراٹھا اور گجرات میں پاٹیداروں کے بعداب راجپوت اور برہمن کمیونٹی کے لوگوں نے بھی ریزرویشن کا مطالبہ کیا ہے۔گجرات میں اضافی ریزرویشن کوٹے کے لئے کمیونٹی کے لوگوں نے او بی سی کمیشن کو ایک خط لکھا ہے۔وہیں اے آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے مہاراشٹر میں مسلم ریزرویشن کا مسئلہ اٹھایا۔اس سلسلے میں انہوں نے ایک ویڈیو ٹوئٹ کرکے مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کا الزام لگایا ہے۔ آپ کو بتادیں کہ جمعرات کو مہاراشٹر اسمبلی میں مراٹھا کو تعلیم اور روزگار کے لئے 16فیصد ریزرویشن دینے کی تجویز منظور ہوئی ہے۔گجرات میں راجپوت برادری کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ کل آبادی کا محض 8فیصد ہیں اور مہاراشٹر میں مراٹھوں کی طرح وہ ریاست میں 8فیصد ریزرویشن کا مطالبہ کرتے ہیں۔دوسری طرف گجرات برہمن سماج نے او سی بی کمیشن کو ایک خط کر او بی سی میں انہیں شامل کرنے کے لئے ایک سروے کی مانگ کی ہے۔گجرات برہمن سماج کے سربراہ یوگنیش دیو نے کہا کہ گجرات میں برہمن کی تعداد 60لاکھ ہے، جو مجموعی آبادی کا9.5فیصد ہے۔انہوں نے کہا کہ 42لاکھ برہمن اقتصادی طور پر کمزور ہیں۔ انہوں نے گجرات کی حکومت سے ایک سروے کرنے اور برہمین کو دریزرویشن دینے کی مانگ کی ہے۔راجپوت گارسیا سماج نے او بی بی کمشنر سوگنابن بھٹ سے ملاقات کی۔گاندھی نگر ضلع کے راجپوت سوسائٹی کے لیڈرراجن چاؤڑا نے کہا کہ راجپوت گرسدار کو اوبی سی میں شامل کیا جانا چاہئے اور او سی بی زمرے میں اضافی کوٹا دیا جانا چاہئے۔چاؤڑا کا کہنا ہے کہ راجپوت کو کارپوریشن اور تعلیمی شعبے میں برابر مواقع نہیں مل رہا ہے،وہ بنیادی طور پر زراعت پر منحصر ہیں، دیگر کمیونٹیوں کے مقابلے میں ان کی برادری میں کمانے والی خواتین کی تعداد کم ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین میں یہ نہیں لکھا ہے کہ صرف 50فیصد ریزرویشن ہی دیاجاناچاہیے۔وہیں اے آئی ایم صدر اسد الدین اویسی نے مہاراشٹر میں مسلمانوں کے لئے ریزرویشن کا مطالبہ کیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو بھی ریزرویشن کا حق ہے کیونکہ وہ نسلوں سے غربت میں رہ رہے ہیں۔اویسی نے ٹویٹر پر لکھاکہ ملازمت اور تعلیم میں مسلمانوں کو محروم رکھناناانصافی ہے،میں مسلسل یہ کہہ رہا ہوں کہ مسلم کمیونٹی میں اس طرح کی پچھڑی نسلیں ہیں جو غربت میں نسلوں سے رہ رہی ہیں،وہ ریزرویشن کے ذریعے کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔اس مطالبے کے ساتھ اویسی نے ایک ویڈیوبھی ٹویٹ کیا ہے۔اس کے ذریعے انہوں نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ کیوں مہاراشٹر کے مسلمانوں کوریزرویشن کی ضرورت ہے۔ان کی طرف سے شیئر ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ مہاراشٹر میں مسلمان کل آبادی کا 11.5فیصد ہیں اور ان میں سے 60فیصد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔