چنتامنی:17 /مارچ(محمد اسلم/ایس او نیوز) تعلقہ کے کیوار گاؤں کینرا بینک کو تالا لگاکر مختلف کنڑا تنظیموں کے کارکنان نے بینک منیجر کی مان مانی سے بیزاراور تبادلہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی دھرنا دیا احتجاجیوں نے کہا کہ بینک منیجر گیری بابو کی من مانیاں حد سے باہر ہوتی جارہی ہے بینک منیجر بینک کے قوانین کو توڑ کر اپنے من مانی سے کام کررہے ہیں بینک میں کسانوں کے علاوہ خواتین کو کسی بھی بینک کے کام کیلئے اکاؤنٹ وغیرہ بنانے کیلئے مہینوں وقت لگا دیا جارہا ہے کیوار گاؤں کے لوگ زیورات پر قرض لینے آئے تو ان کو قرض نہ دیتے ہوئے بدتمیز ی سے بات کرقرض دینے سے انکار کررہے ہیں جو لوگ بینک منیجر کو رشوت دیتے ہیں ان کو بینک سے لمحوں میں قرض مل رہا ہے ۔
احتجاجیوں نے کہا حکومت سے دودھ ڈائری کو دودھ فراہم کرنے والے کسانوں کو بینک اکاؤنٹ سے رقم ملتی ہے اُس رقم کی بھی بینک منیجر نے ہیرا پھیری کرنے کی بے انتہا کوشش کی ہے قحط سالی کا شکار جڑواں اضلاع کے کسانوں کو جو بینک سے قرض دیا گیا ہے اُس قرض کو وصول کرنے کیلئے بینک منیجر کسانوں کے مکانوں تک جاکر اپنے اثر رسوخ استعمال کرکہ ان کی محلوں میں بے عزتی کررہے ہیں بینک سے قرض لئے کسانوں کو کئی طریقوں سے بینک منیجر دھمکیاں دے رکھیں ہیں تعلقہ کے ہر ایک بینک میں بینک منیجروں کی خود مختیاری زیادہ ہوچکی ہے ۔
احتجاجیوں نے کہا زیورات بینک میں گروی رکگ کر قرض لئے احباب ساری قرض کی رقم ادا کردینے کے باجود بھی ان کے گروی رکھیں زیورات کو واپس کرنے میں کوتاہی کررہے ہیں بینک میں معذور کو اکاؤنٹ بناکر دینے کیلئے بینک عملہ اور منیجر کو رشوت دینا پڑتا ہے بینک کے اے ٹی ایم میں رقم ہونے کے باجود بھی بینک کے اے ٹی ایم کو بند کرکہ رکھا جارہا ہے۔
احتجاجیوں نے مزید کہا آنگن واڑی کارکنان کو حکومت سے جو تنخواۃ ملتا ہے اُس تنخواہ کو ڈرا (draw)کرنے بھی نہیں دیا جارہا ہے بینک کے منیجر کی من مانیوں سے بینک صارفین بہت بیزار ہوگئے ہیں۔
اس احتجاج کے موقع پر ٹمکور شاخ کے ڈویجنل افسر گنیش ہیگڈے پہنچ کر احتجاجیوں کے مطالبات سن کر فوراََ بینک منیجر گیری بابو کو معطل کر کہ احکامات جاری کردئیے انھوں نے احتجاجیوں کو یقین دلایا کہ بینک منیجر گیری بابو کے خلاف اعلیٰ بینک افسروں کو شکایت کرکہ قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا ۔اس احتجاج میں سابق گرا م پنچایتی صدر ننجوگوڈا گرام پنچایتی رُکن مبینہ تاج کنڑا ہیتا رکشنا ویدیکے کے صدر کرشنا گرام پنچایتی رُکن شرنیواس سمیت کئی سو کنڑا تنظیموں کے کارکنان وغیرہ موجود رہے ۔