کمٹہ 15؍مارچ (ایس او نیوز) کوڑاکرکٹ ٹھکانے لگانا تقریباً ہر شہر کی میونسپالٹی اور دیگر بلدی اداروں کے لئے ایک درد سر بن گیا ہے۔ اب تازہ تنازعہ کمٹہ اور ہوناور کے بیچ کھڑا ہوگیا ہے، جہاں ڈپٹی کمشنر کے احکام پر عمل کرتے ہوئے کمٹہ شہر کا کوڑا کرکٹ اور غلاظت بھر اکچرا جب ہوناور کے علاقے میں ٹھکانے لگانے کی کوشش کی گئی تو وہاں کے عوام نے مخالفت اور احتجاج کا راستہ اپنایا ہے۔ یہی نہیں بلکہ کمٹہ سے آنے والے کچرے کے ٹرک کو ہوناور میں روک کر اسے واپس کمٹہ لے جانے پر مجبور کردیا ہے۔
اس مسئلے کو لے کرکمٹہ اور ہوناور کے بیچ ایک نئی سیاسی اور سماجی جنگ شروع ہونے کے بھی آثار نظر آنے لگے ہیں کیونکہ ہوناور پٹن پنچایت کے اراکین نے کمٹہ کی کچرا لاری کو روک کر واپس بھیجنے اور احتجاجی دھرنا دینے کا جو اقدام کیا ہے اس کے جواب میں کمٹہ میونسپالٹی کے اراکین نے دھمکی دی ہے کہ ہوناور پٹن پنچایت کو کمٹہ سے پانی کی فراہمی بند کردی جائے گی۔جبکہ ہوناور پٹن پنچایت اراکین کی حمایت اور کمٹہ شہر کا کچرا ہوناور میں ٹھکانے لگانے کی مخالفت میں ہوناور کی بہت ساری سماجی تنظیمیں آگے آئی ہیں۔
خیال رہے کہ ہوناور پٹن پنچایت میں اتفاق رائے سے یہ تجویز منظور کی گئی تھی کہ کمٹہ کاکچرا یہاں نہیں لایا جائے۔ مگر ڈپٹی کمشنر نے بلدی ادارے کے اراکین اور عوام کی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے ہوناورہی میں کچرا ڈمپ کرنے کا حکمنامہ جاری کردیا تھا ۔کیونکہ کمٹہ کے مضافات میں کچرا ڈمپ کرنے کے لئے کسی بھی جگہ عوام کی طرف سے اجازت نہیں مل رہی ہے۔ بعض مقامات پر لوگوں نے عدالت سے اسٹے تک حاصل کرلیا ہے۔ اسی کے پیش نظر ڈی سی نے ہوناور پٹن پنچایت صدر کومشورہ دیاتھا کہ عدالت سے اسٹے ہٹنے تک عبوری طور پر کمٹہ کا کچرا ہوناور میں ٹھکانے لگانے کی سہولت فراہم کی جائے۔ مگر پٹن پنچایت کی میٹنگ میں اس مشورے کو یکسر مسترد کردیا گیا تھا۔ اس کے باوجود جب ڈی سی کے حکم پر کچرا ڈمپ کرنے کی کوشش کی گئی تو لوگ احتجاج پر اتر آئے اور کچرے سے بھری دونوں لاریوں کو واپس کمٹہ جانے پر مجبور کیا۔ہوناور پولیس نے موقع پرپہنچ کر حالات کو قابو میں کیا اور امن و امان کی صورتحال بنائے رکھی۔
اس موقع پرکمٹہ ہوناور علاقے کی ایم ایل اے شاردا شیٹی نے ڈی سی پر یکطرفہ فیصلہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا ڈی سی مختارکل ہیں۔ جو عوامی نمائندوں سے صلاح و مشورے اور عوام سے بات چیت کے بغیر اپنے طور پر اس طرح کی فیصلے کررہے ہیں۔مسز شاردا شیٹی نے کہا کہ مجھے کمٹہ کے عوام بھی چاہیے اور ہوناور کے عوام کا خیال رکھنا بھی میری ذمہ داری ہے۔لیکن ضلع ڈی سی ہماری باتوں کو نظر انداز کررہے ہیں۔ اس معاملے میں مجھے مداخلت نہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔احتجاجی عوام اور پٹن پنچایت اراکین کے سامنے ہی ٹیلی فون پر ڈی سی اور ایم ایل اے کے درمیان اس مسئلے پر بحث ہوئی اور ڈی سی نے جب یہ کہا کہ ہوناور پٹن پنچایت اراکین ان سے آکر ملیں تو احتجاجی اور مشتعل ہوگئے اور کہا کہ اگر ضرورت محسوس ہوتو خود ڈی سی آکر ان سے ملاقات کریں۔
بھٹکل سب ڈیویژن کےاسسٹنٹ کمشنر نے موقع پر پہنچ کر احتجاجیوں اور ایم ایل اے سے بات چیت کرتے ہوئے معاملہ کو سلجھانے کی کوشش کی اور جب کچرا بھری لاریوں کو واپس کمٹہ بھیج دیا گیا تواحتجاجی مظاہرہ ختم کیا گیا۔ اب یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ اب کمٹہ کا کچرہ کہاں ٹھکانے لگایا جائے گا۔