ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک کے بی جے پی چیف نے پھردیا ٹیپومخالف بھاشن؛ ٹیپو کے چاہنے والوں کو بھگانے کا دیا مشورہ

کرناٹک کے بی جے پی چیف نے پھردیا ٹیپومخالف بھاشن؛ ٹیپو کے چاہنے والوں کو بھگانے کا دیا مشورہ

Thu, 16 Feb 2023 00:33:15    S.O. News Service

کوپّل 15 فروری(ایس او نیوز) کرناٹک بی جے پی صدر نلین کمار کٹیل نے بدھ کے روزپھر ایک بار ٹیپو سلطان کا نام لے کرعوامی جلسہ میں کہا کہ ٹیپوسلطان کے حامیوں کواس سرزمین سے بھگایا جائے ان کےمطابق جو لوگ بھگوان رام اور بھگوان ہنومان کے بھجن گاتے ہیں انہیں ہی اس سرزمین میں رہنا چاہئے۔ یہاں اُن لوگوں کو نہیں رہنا چاہئے جو 18ویں صدی کے میسور کے حکمران ٹیپو سلطان سے محبت کرتے ہیں۔

کوپل ضلع کے یلبرگہ میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے، نلین کمار کٹیل نے لوگوں سے عہد لینے اور فیصلہ کرنے کو کہا اور پوچھا کی "کیا آپ اس سرزمین میں ٹیپو کی اولاد چاہتے ہو ؟ یا رام کے بھکت اور انجنییا کے بھکت چاہتےہو؟ آگے کہا کہ ٹیپو سےمحبت کرنے والوں کو اس سرزمین میں نہیں رہنا چاہئے اور صرف رام کے بھجن گانے والوں کو ہی رہنا چاہئے۔

کرناٹک میں اسمبلی انتخابات کےلئے بمشکل تین ماہ رہ گئے ہیں، لیکن ابھی سے ریاست میں بی جے پی نے مسلم حکمراں ٹیپوسلطان کی مخالفت کے نام پر ہندو مسلم  کی سیاست شروع کردی ہے۔ یاد رہے کہ نلین کمار کٹیل نے اس سے پہلے اسی طرح کا بیان بھٹکل میں بھی دیا تھا اوربی جے پی کا منشاء ظاہر کرتے ہوئےاس بات کا اعلان کیا تھا کہ آنےوالے اسمبلی انتخابات "کانگریس اور بی جے پی کے درمیان نہیں بلکہ ساورکر اور ٹیپو کے نظریات کے درمیان لڑے جائیں گے"

بتاتے چلیں کہ 18 ویں صدی کے مسلم حکمراں ٹیپو سلطان جنہیں سائنسی علوم میں مہارت حاصل تھی اور انہوں نے ہی دنیا میں راکٹ سازی اور میزائل ٹیکنالوجی دی تھی،مرتے دم تک برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے ایک ناقابل تسخیر دشمن رہے۔ انہوں نے 1789ء میں برطانوی اتحادی ٹراوانکور پر حملے کئے وہیں تیسری اینگلو میسور جنگ میں انگریزوں کو سرینگا پٹم کے معاہدے پر مجبور کیا تھا اوراس جنگ میں انگریزوں کو پہلے فتح کیے گئے متعدد علاقوں کو کھونا پڑا تھا۔ ٹیپو سلطان 1799ء میں اُس وقت شہید ہوگئے تھے۔ جب ان کے خود کے وزیراعظم پنڈت پورنیا نے ان کے ساتھ غداری کی تھی۔ اس تعلق سےبابائے قوم مہاتما گاندھی نے نہایت افسوس کے ساتھ کہا تھا کہ اتنےعظیم سلطان کا وزیراعظم ہندو تھا،جس نے سلطان کے ساتھ غداری کی۔

یلبرگہ میں بھاشن دیتے ہوئے نلین کمار کٹیل نے کہا کہ ’’ہم رام کے بھکت ہیں۔ ہم انجنیا کے عقیدت مند ہیں… ہم ٹیپو کی اولاد نہیں ہیں۔ اس لیے، میں یلبرگہ کے لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ انجنیا کے لیے دعا کریں گے یا ٹیپو کے نام کا نعرہ لگائیں گے ؟

کٹیل نے یہ بھی پوچھا کہ کیا آپ ٹیپو کے بھجن گانے والوں کو جنگل میں نہیں بھگائیں گے؟ ایک قسم اٹھائیں اور فیصلہ کریں کہ آپ اس سرزمین میں ٹیپو کی اولاد چاہتے ہیں، یا رام کے بھکتوں یا انجنیا کے بھکت… جو لوگ ٹیپو سے محبت کرتے ہیں وہ اس سرزمین میں نہیں رہیں۔

تقریر کی ویڈیوکلپس بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہورہی ہیں۔ 

یہ بھی یاد رہے کہ جنوری میں، نلین کمار کٹیل  نے لوگوں سے ڈیولپمنٹ کے کاموں بالخصوص سڑکوں، نالیوں اور سیوریج جیسے چھوٹے مسائل کو لے کر سوال نہ کرنے کہا تھا اورصرف "لو جہاد" کو روکنے پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے کہا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’اگر آپ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں اور اگر آپ ’لو جہاد‘ کو روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں بی جے پی کی ضرورت ہے۔‘‘


Share: