منڈ گوڈ 11 فروری (ایس او نیوز) ریاست کرناٹک میں حکومت کے کسی بھی ترقیاتی کام میں 40 فیصد کمیشن لئے جانے کی کنٹریکٹرس اسوسی ایشن کی طرف سےوزیراعظم سے شکایت کرنے کے بائوجود کسی طرح کی کاروائی نہ ہونے کو لے کر قانون ساز کونسل میں اپوزیشن پارٹی کے لیڈر بی کے ہری پرساد نے شک ظاہر کیا ہے کہ مرکزی حکومت کا بھی اس میں حصہ ہوسکتا ہے۔
ضلع اُترکنڑا کے منڈگوڈ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، 'بی جے پی کانگریس پارٹی پر بدعنوانی کا الزام عائد کرتی ہے۔ اگر چیف منسٹر بومئی کو عقل ہے تو وہ کانگریس پارٹی لیڈران کی تحقیقات کریں۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ اگرکانگریس کے لیڈران بدعنوانی میں ملوث پائے جاتے ہیں تو اسے جیل بھیج دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جب کانگریس پارٹی اقتدارمیں آئے گی تو ہم بی جے پی حکومت کے کرپٹ لوگوں کو جیل بھیجیں گے۔ لوگ اس بات سے بھی پریشان ہیں کہ اگر غیر مستحکم حکومت بنی تو بی جے پی ہارس ٹریڈنگ کرے گی۔ اس کی وجہ سے عوام نے کانگریس پارٹی کوہی مکمل اکثریت دینے کا فیصلہ کیا ہے''۔
اس موقع پر کانگریس لیڈران وی ایس پاٹل، بلاک کانگریس صدرجیاندیو گوڈیال، ایچ ایم نائک، کرشنا ہیرے ہلّی، محمد غوث مکاندار، محمد جعفر ہنڈی، عبدلرزاق خان پٹھان موجود تھے۔