ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / کابل خود کُش حملہ:80سے زائد افراد ہلاک، داعش ذمہ دار

کابل خود کُش حملہ:80سے زائد افراد ہلاک، داعش ذمہ دار

Sun, 24 Jul 2016 19:35:37    S.O. News Service

کابل24جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران ہوئے مبینہ خودکش حملوں میں کم از کم اسی افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے بم باروں کا نشانہ ہزارہ افرادتھے۔طالبان نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے تاہم مقامی نیوز چینل طلوع لمر نے انٹیلیجنس کے حوالے سے خبر شائع کی ہے کہ اس حملے میں داعش کے حامی عسکریت پسند ملوث ہیں. خود داعش سے منسلک ایک ویب سائٹ عماق نے یہ خبر شائع کی ہے کہ نام نہاد 'دولت اسلامیہ' کے دو جنگجووں نے کابل افغانستان میں 'شیعہ' (افراد)کو نشانہ بنایا ہے.افغان مظاہرین،بالخصوص ہزارہ برادری سے تعلق رکہنے والے ہزاروں افراد آج اس مظاہرے میں شریک تھے، جو کابل حکومت سے بجلی سپلائی کی ایک 500 کلو واٹ لائن کا راستہ تبدیل کرنے کا مطالبہ کرنے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ ان کا پروگرام تھاکہ مرکزی شہرمیں واقع صدارتی محل 'ارگ' تک پہنچ کر وہاں لامحدود عرصے تک دوہرانا دیا جائے۔تاہم راستے ہی میں ایک مبینہ خودکش حملہ آور، جس نے بعض عینی شاہدین کے بقول برقعہ پہن رکہا تہا، مظاہرے کے دوران خود کو دہماکے سے اڑا دیا۔صحت عامہ کے ذرائع کے مطابق دہماکا دوپہر دو بجے کے قریب ہوا۔ اس حملے میں کم از کم اسی افراد کی موت کی تصدیق کر دی گئی ہے جبکہ ایک سو سے زائد افراد زخمی ہیں ۔ زخمیوں میں مظاہرین کی سکیورٹی پر مامور تین تہانوں کے انچارج بہی شامل ہیں ۔سکیورٹی حکام نے قبل ازیں مظاہرین کو خبردار کیا تہا کہ دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے اور وہ اتنی بڑی تعداد میں سڑکوں پر آنے سے گریزکریں۔یاد رہے کہ چند ہفتے قبل بہی اسی تنازعے کی بنیاد پر ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا تہا تاہم اس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیاتھا۔'جنبش روشنائی' نامی یہ تحریک ایک عرصے سے چل رہی ہے جس کا دعویٰ ہے کہ کابل حکومت لسانی تعصب کی بنیاد پر ہزارہ برادی کے علاقے وسطی افغانستان کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ اہم پاور سپلائی لائن شمالی افغانستان سے گزار رہی ہے۔افغان حکومت کا البتہ موقف ہے کہ اول تو یہ منصوبہ سابق حکومت کا منظور کردہ ہے، جس میں ہزارہ برادری اور اس تحریک کے مرکزی قائدین شامل تھے، دوسرے یہ کہ اب مجوزہ روٹ پر اتنا کام ہوچکا ہے کہ اب خود مرکزی اور دیگر صوبوں کا بہلا اسی میں ہے کہ روٹ تبدیل نہ کیا جائے۔مظاہرے کے منتظیمن نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ احتجاجی تحریک جاری رکہیں گے۔ احمد بہزاد، جنبش روشنائی کے ایک رہنما، کے بقول مظاہرین حصول انصاف کے لیے جدوجہد جاری رکہیں گے اور جب تک حکومت اس منصوبے کے روٹ میں تبدیلی کا اعلان نہیں کرتی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکہا جائے گا۔صدر محمد اشرف غنی نے مظاہرین پر ہوئے حملے اور اس باعث ہوئی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے. ایک بیان میں صدر غنی نے پر امن مظاہرے کو عوام کا جمہوری حق ٹہراتے ہوئے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ وہ مثاترین کو بروقت اور بہترین طبی امداد مہیا کرنے کو یقینی بنائیں۔افغانستان میں اس سے قبل ہزارہ کمیونٹی کی قیادت کافی حد تک متحد رہی ہے تاہم 'جنبش روشنائی' کے معاملے پر ان کی قیادت میں اختلافات ہیں۔ حکومت میں شامل صدر اشرف غنی کے نائب سرور دانش اور چیف ایگزیکٹیو کے نائب محمد محقق گرچہ اوائل میں اس تحریک سے جڑے رہے تھے تاہم وہ اس حالیہ مظاہرے کے مخالف ۔واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کابل میں جرمن غیر سرکاری ادارے فریڈرش ایبرٹ اشٹفٹنگ کے سربراہ الیکسی یوسپوف نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے سرکاری املاک کی سلامتی پر زیادہ دہیان دیا اور مظاہرین کی سلامتی پر کم۔ ان کے مطابق اگر تو حکومت کو خبر تہی کہ خطرہ موجود ہے تو مظاہرے منسوخ کرنے یا لوگوں کی سلامتی کے لیے زیادہ اور واضح اقدامات کیے جانے چاہیے تھے۔واضح ہے کہ ہزارہ کمیونٹی نشانہ بنی ہے مگر یہ مجموعی طور پر افغان جمہوریت پر ایک حملہ ہے، اور اگر اس میں واقعی داعش ملوث ہے تو یہ حملہ افغانستان میں آیندہ مشرق وسطیٰ کی طرز کی فرقہ ورانہ کشیدگی کی نشاندہی کرتا ہے۔انہوں نے ہزارہ برادری کی سیاسی قیادت کو بہی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں عوام کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے کا ذمہ دار ٹہرایا۔


Share: