اسلام آباد 15 ؍مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)پاکستان نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں نبھائے گا کہ جوہری ٹیکنالوجی نہ رکھنے والی اقوام ایسی ٹیکنالوجی حاصل نہ کر پائیں جو انہیں جوہری ہتھیاروں کے حصول کی راہ پر گامزن کر سکے۔
یہ عزم پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کی جانب سے اسلام آباد میں ہونے والی ایک کانفرنس سے خطاب کے دوران ظاہر کیا گیا۔ جوہری عدم پھیلاؤ کے موضوع پر ہونے والی اس کانفرنس میں جنوبی اور وسطی ایشیائی ممالک کے نمائندوں کے علاوہ چین اور روس کے مندوبین بھی شریک ہیں۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستان اور جوہری طاقت رکھنے والی اس کی ہمسایہ ریاست بھارت دونوں ہی جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدوں پر دستخط کرنے سے گریزاں ہیں جس کا مقصد ایک دوسرے کے مد مقابل اپنی اپنی جوہری صلاحیت میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنا ہے۔اسلام آباد میں ہونے والی دو روزہ کانفرنس میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے نمائندے بھی شریک ہیں۔
پاکستان نے تاہم اقوام متحدہ کی 13 سال پرانی اس قرارداد پر دستخط کر رکھے ہیں جس کا مقصد جوہری، حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا ہے اور خاص طور پر غیر ریاستی عناصر کی طرف سے ایسی کسی ٹیکنالوجی تک رسائی کی کوششوں کو مسدود کرنا ہے، جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکتی ہو۔بھارت کی جانب سے 1970ء کی دہائی میں جوہری تجربہ کیے جانے کے بعد پاکستان نے بھی یہ ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔ یہ دونوں ہمسایہ ریاستیں 1998ء میں متعدد جوہری دھماکے کر کے جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کی فہرست میں باقاعدہ طور پر شامل ہو گئی تھیں۔ ان دونوں روایتی حریف ممالک نے ابھی تک جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے ’نان پرولیفیریشن ایگریمنٹ‘ پر دستخط نہیں کیے۔پاکستان نے تاہم اقوام متحدہ کی 13 سال پرانی اس قرارداد پر دستخط کر رکھے ہیں جس کا مقصد جوہری، حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا ہے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کانفرنس کے شرکاء4 کو بتایا کہ پاکستان نے ایسے طریقہ کار وضع کر رکھے ہیں اور ان پر عملدرآمد کر رہا ہے جن کے سبب اس ٹیکنالوجی کے غلط ہاتھوں میں جانے کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔اسلام آباد میں ہونے والی دو روزہ کانفرنس میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی، کیمیائی ہتھیاروں پر پابندیوں کی عالمی تنظیم اور انٹرپول کے نمائندے بھی شریک ہیں۔