ممبئی۸؍ فروری (ایس او نیوز/پریس ریلیز) سپریم کورٹ آف انڈیا کی جانب سے دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار گجرات کے ۴؍ مسلم نوجوانو ں کو مقدمہ سے بری کیئے جانے والے معاملے کے ملزمین کی آج دیر رات احمد آباد بھی سابر متی جیل سے رہائی عمل میں آئی ، ملزمین کو جیل سے رہائی کے وکلاء سیکڑوں کی تعداد میں مقامی مسلمان سمیت جمعیۃ علماء ہند (ارشد مدنی) کے ذمہ داران موجود تھے۔
واضح رہے کہ سال ۲۰۰۲ ء میں احمد آباد میں میونسپل کارپوریشن کی بسوں میں ہوئے بم دھماکے بنام ’’ٹفن بم دھماکہ‘‘ معاملے میں خصوصی پوٹاعدالت نے ملزمین حنیف پاکٹ والا،حبیب حوا، کلیم حبیب کریمی اور انس راشد ماچس والا کو دس دس سال کی قید بامشقت کی سزا سنائی تھی لیکن گجرات حکومت کی اپیل پر ہائی کورٹ نے ملزمین کی سزاؤں کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا جس کے بعد ملزمین کی عمر قید کی سزاؤں کے خلاف سپریم کورٹ میں ۲۰۰۹ء میں اپیل دائر کی گئی تھی جس پر آج سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا جس کے مطابق حنیف بھائی پاکٹ والا،حبیب شفیع حوا کو مقدمہ سے باعزت بری کردیا گیا جبکہ دیگر دو ملزمین کلیم حبیب کریمی اور انس راشد ماچس والاکو ابتک انہوں نے جتنی سزا ء جیل میں گذاری ہے اسے ہی سزاء مانتے ہوئے انہیں پرسنل بانڈ پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے ہیں جس کے بعد تمام ملزمین کی جیل سے رہائی عمل میں آئی ۔
عیاں رہے کہ عدالت عظمی کی دو رکنی بینچ کے جسٹس پیناکی چندیرا گھوس اورجسٹس آر ایف نریمن کے روبرو سینئر ایڈوکیٹ کے ٹی ایس تلسی کے ساتھ ساتھ ایڈوکیٹ کامنی جیسوال، ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ارشاد احمد اور ایڈوکیٹ اعجاز مقبول نے کامیاب پیروی کی جس کے بعد ۲؍ فروری کو ملزمین کے حق میں فیصلہ آیا تھا ۔