بنگلورو:6/دسمبر (ایس او نیوز) مضافات بنگلور میکے ڈاٹ میں آبی ذخیرے کی تعمیر کا منصوبہ پیش کرنے ریاستی حکومت کو مرکزی آبی کمیشن کی ہدایت کے بعد اس معاملے پر تنازعہ کھڑا کرنے تملناڈو کی مبینہ کوشش اور اس سلسلے میں کرناٹک کی قانونی جنگ پر تبادلۂ خیال کے لئے آج وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے ایک کل جماعتی اجلاس کا اہتمام کیا۔ اجلاس میں سابق وزرائے اعلیٰ سدرامیا، جگدیش شٹر، ریاستی وزیر ڈی کے شیوکمار، سابق وزیر ایچ کے پاٹل، بی جے پی لیڈر کے ایس ایشورپا اور دیگر نے شرکت کی۔ تملناڈو حکومت کی طرف سے میکے ڈاٹ مسئلے پر تبادلۂ خیال کے لئے وہاں کی اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کے فیصلے کو بھی میٹنگ میں زیر بحث لایا گیا۔ میٹنگ میں وزیر اعلیٰ کمار سوامی نے بتایاکہ میکے ڈاٹ میں آبی ذخیرے کا جو منصوبہ مرتب کیا جارہاہے وہ صرف پینے کے پانی کے لئے ہے۔ تملناڈو حکومت کی طرف سے اس منصوبے کی مخالفت کو انہوں نے زیادتی قرار دیا اور کہاکہ تملناڈو کی طرف سے اس سلسلے میں ایک خصوصی رٹ عرضی سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے، ریاستی حکومت اس کا قانونی طریقے سے جواب دے گی۔ میٹنگ کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر برائے آبی وسائل ڈی کے شیوکمار نے بتایاکہ میکے ڈاٹ میں آبی ذخیرے کی تعمیر کے متعلق ابتدائی پراجکٹ رپورٹ مرکزی آبی کمیشن کو دی گئی ہے۔ اس کے مطابق پراجکٹ کی لاگت 5916کروڑ روپے ہے۔ انہوں نے کہاکہ پراجکٹ پر کام شروع کرنے کے لئے حکومت کرناٹک نے قدم بڑھادیا ہے، اب پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال ہی نہیں۔ وزیر موصوف نے کہاکہ کاویری آبی تنازعہ ٹریبونل نے تملناڈو کے حصے میں کاویری کا جتنا پانی مقرر کیا ہے وہ تملناڈو کو بہادیا جائے گا۔ اس کے باوجود بھی کرناٹک میں آبی ذخیروں کی تعمیر روکنے کے لئے اگر کسی طرح کی کوشش کی گئی تو یہ تملناڈو کی زیادتی ہوگی۔ اس سلسلے میں ریاستی حکومت کی طرف سے قانونی جنگ میں پوری شدت کے ساتھ آگے بڑھنے کا اختیار وزیراعلیٰ کمار سوامی نے دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق رائے سے زور دیا ہے کہ میکے ڈاٹ پراجکٹ پر کام جلد شروع کردیا جائے، تملناڈو کی طرف سے اس معاملے کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ میں رنگنے پر میٹنگ میں افسوس ظاہر کیاگیا اور کہاگیا کہ جلد ہی مرکزی حکومت کو کرناٹک کی صورتحال سے آگاہ کرایا جائے گا۔ اور گزارش کی جائے گی کہ کرناٹک میں اس پراجکٹ پر کام شروع کرنے کی اجازت بلا تاخیر دی جائے۔