ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مہاجرین کی ایک اور کشتی حادثے کا شکار، اکیس خواتین ہلاک

مہاجرین کی ایک اور کشتی حادثے کا شکار، اکیس خواتین ہلاک

Thu, 21 Jul 2016 17:49:30    S.O. News Service

برلن21جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)یورپ کی طرف مہاجرت کا سفر اختیار کرنے والی اکیس خواتین اور ایک مرد کی لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں۔ یہ لوگ ربڑ کی ایک کشتی میں بیٹھ کر شمالی افریقہ سے اٹلی پہنچنے کی کوشش میں تھے۔خبر رساں ادارے روئٹرز نے ڈاکٹروں کی بین الاقوامی امدادی تنظیم ایم ایس ایف کے حوالے سے بتایا ہے کہ لیبیا کی ساحلی حدود میں حادثے کا شکار ہونے والی ایک کشتی سے بائیس لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔یورپی بارڈر ایجنسی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یورپی یونین اور ترکی کے مابین معاہدہ طے پانے کے بعد یونان پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد میں کمی جب کہ اٹلی کا رخ کرنے والے نئے مہاجرین کی تعداد میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ افراد ربڑ کی ایک کشتی کو پیش آنے والے حادثے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ ایم ایس ایف کے مطابق مہاجرت کا سفر شروع کرنے کے کچھ ہی گھنٹے بعد مہاجرین کی اس کشتی کو حادثہ پیش آ گیا تھا۔بحیرہ روم میں گشت کرنے والی ایم ایس ایف کی ایک کشتی نے بدھ کے دن حادثات کا شکار ہونے والی مہاجرین کی دو کشتیوں کو ریسکیو کیا۔ یہ دونوں کشتیاں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ سفر کر رہی تھیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان کشتیوں میں سوار پچاس بچوں سمیت کل دو سو نو افراد کو بچا لیا گیا۔تاہم ایم ایس ایف نے بتایا کہ ایک کشتی میں سوار بائیس افراد ہلاک ہو گئے، جن کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ امدادی ادارے ایم ایس ایف کے سرچ اینڈ ریسکیو شعبے کے سربراہ ژینس پاگوٹو نے بتایا، ابھی واضح نہیں کہ کیا ہوا تھا اور یہ حادثہ کیوں رونما ہوا۔ لیکن یہ لوگ خوفناک انداز میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ژینس پاگوٹو کے بقول، بظاہر فیول اور پانی کی آمیزش ہو گئی تھی، جس کی وجہ سے پیدا ہونے والے دھوئیں کی وجہ سے کشتی میں سوار افراد بے ہوش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ حقائق جاننے کی کوشش جاری ہے کہ درحقیقت ہوا کیا تھا۔بتایا گیا ہے کہ ان افراد میں سے زیادہ تر کا تعلق نائجیریا اور گنی جیسے مغربی افریقی ممالک سے تھا۔ ان لاشوں کو فوری طور پر اطالوی جزیرے سسلی پہنچا دیا گیا تھا جبکہ بروز جمعہ متوقع طور پر انہیں تراپانی کی بندرگاہ پر منتقل کر دیا جائے گا۔یہ امر اہم ہے کہ شمالی افریقی ممالک سے اٹلی پہنچنے والے تارکین وطن اور مہاجرین کی تعداد میں اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے۔اطالوی حکام نے بتایا ہے کہ منگل کے دن بھی بحیرہ روم میں ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے ڈھائی ہزار سے زائد مہاجرین کو بچا لیا گیا تھا جبکہ اس دوران صرف ایک شخص ہلاک ہوا تھا۔ بدھ کے دن بھی تقریباََچھ سوافرادکو اس خطرناک سمندری سفر کے دوران بچا لیا گیا، جو کشتیوں کے ذریعے اٹلی پہنچنے کی کوشش میں تھے۔رواں سال کے پہلے تقریباََسات ماہ کے دوران شمالی افریقہ سے انہتر ہزار آٹھ سو اکسٹھ مہاجرین بحیرہ روم کو عبور کرتے ہوئے اٹلی پہنچ چکے ہیں۔ گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران اس طرح اٹلی پہنچنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد تراسی ہزار ایک سو انیس رہی تھی۔عالمی ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق رواں سال اب تک اس خطرناک سمندری راستے میں مختلف حادثات رونماہونے کے باعث کم از کم تین ہزار مہاجرین لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ یورپی یونین کی کوشش ہے کہ مہاجرت کاسفراختیارکرنے والے ایسے افراد کو بچانے کی کوشش کی جائے، اسی لیے بحیرہ روم میں کئی گشتی امدادی مشن فعال ہیں۔


Share: