احمد آباد،15جون؍(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)زیادہ تر سبزیوں میں ٹماٹر کا زیادہ استعمال ہوتا ہی ہے لیکن گجرات میں ابھی کچھ دن سے ٹماٹر کا استعمال کرنے میں لوگ کافی کفایت برتنے لگے ہیں۔اس کی وجہ ہے کہ گجرات میں پورے ملک کے مقابلے ٹماٹر کے دام سب سے زیادہ بڑھے ہیں۔یہاں سبزیوں میں کھٹائی کے لئے دہی ڈال کر کام چلا ریاجارہاہے،حالانکہ اس سے سبزیوں میں وہ مزہ نہیں آتا اور نہ ہی وہ ذائقہ محسوس ہوتاہے۔ویسے تو ٹماٹر پورے ملک میں مہنگے ہو گئے ہیں لیکن گجرات میں اس کی قیمتوں میں اضافہ گزشتہ ایک ماہ میں دوگنا سے زیادہ ہواہے۔ریاست میں ٹماٹر کی قیمت 30روپے فی کلو سے بڑھ کر 80روپے فی کلو ہو گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دو ماہ پہلے تک ٹماٹر کے دام بالکل ہی کم تھے، بہت سے کسانوں نے ٹماٹر کی کاشت نہیں کی۔احمد آباد کی منڈی میں جون میں عام طور پر مہاراشٹر سے ٹماٹر آتے تھے جو بالکل ہی نہیں آ رہے ہیں، اس لیے فراہمی بھی کافی کم ہوئی ہے۔احمدآباداے پی ایم سی کے ڈائریکٹر مکیش مودی کہتے ہیں کہ گزشتہ 30سال میں پہلی بار ہے کہ انہیں یوپی سے بھی ٹماٹر منگوانا پڑ رہا ہے۔عام طورپرمہاراشٹر کے علاقوں اور جنوبی ہند سے ہی یہاں سپلائی ہوتا رہا ہے،دور دراز سے آنے کی وجہ سے ٹرانسپورٹ میں خرابی بھی زیادہ ہوتی ہے۔اعداد و شمار کو دیکھیں تو 14مئی کو ہول سیل منڈی میں تقریباََ 2700کونٹل ٹماٹر روز آ رہے تھے اور فی کوئنٹل دام 2000روپے تھے۔ایک ماہ میں ہی سپلائی میں تقریبا 1100کوئنٹل کی کمی آ گئی ہے اور فی کوئنٹل قیمت 4500روپے ہو گئی ہے۔یہ ہول سیل قیمتوں میں اضافہ ہے، خوردہ دام تو فی کلو 80روپے تک پہنچ چکے ہیں۔کم سپلائی کی ایک وجہ بارش میں تاخیر بھی ہے،امید یہی کی جا رہی ہے کہ اگلے ایک ماہ میں بارش ہو تو دام کچھ کم ہوں گے،تب تک مہنگائی کی مار سے راحت نہیں ملے گی۔