ملپے، 18 / فروری (ایس او نیوز) حکومت کی طرف سے ماہی گیروں کے لئے جو سبسیڈی والا ڈیزل فراہم کیا جاتا ہے اس کا سالانہ ختم ہونے کی وجہ سے بیشتر کشتیاں سمندر میں ماہی گیری کرنے کے بجائے ملپے بندرگاہ پر لنگر انداز کر دی گئی ہیں ۔
ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ سرکاری طور پر انہیں 1.50 کلو لیٹر ڈیزل فراہم کیا جاتا ہے ۔ لیکن یہ کوٹا اب ختم ہوگیا ہے 14 فروری سے ماہی گیری بند کرکے وہ اپنی کشتیاں بندرگاہ میں لنگرانداز کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ ماہی گیروں کے مطابق اسی موسم میں بڑی مقدار میں مچھلیوں کا شکار ہوتا ہے اور لاکھوں روپوں کا کاروبار ہوتا ہے ، لیکن ڈیزل نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا نہیں سکتے ۔
ماہی گیروں نے بتایا کہ گزشتہ مرتبہ بھی ایسی صورتحال پیدا ہوگئی تھی مگر وہ دقت مارچ کے تیسرے ہفتہ میں پیش آئی تھی ۔ مگر امسال تو ماہی گیری کے بہترین موسم میں ہی ڈیزل کی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ گزشتہ مرتبہ حکومت کی طرف سے 10ہزار کلو لیٹر اضافی ڈیزل فراہم کرکے راحت پہنچائی گئی تھی ۔ اس لئے اس مرتبہ ملپے ماہی گیر سنگھا کے ذمہ داران بنگلورو روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ منتخب عوامی نمائندوں سے ملاقات کرکے اضافی ڈیزل حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
معلوم ہوا ہے کہ اضافی ڈیزل فراہم کرنے کی تجویز کو وزیر اعلیٰ نے منظوری دی ہے اور اسے حکومت کے فائنانس ڈپارٹمنٹ کے لئے پاس بھیجا گیا ہے ۔