ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مرکزی بجٹ میں زرعی امور کو نظر انداز کیاگیا بہتری لانے کی ذمہ داری ریاستی حکومت پر ہے: ڈاکٹر پرکاش

مرکزی بجٹ میں زرعی امور کو نظر انداز کیاگیا بہتری لانے کی ذمہ داری ریاستی حکومت پر ہے: ڈاکٹر پرکاش

Mon, 13 Mar 2017 10:49:48    S.O. News Service

بنگلورو،11؍مارچ (ایس او نیوز) اگریکلچر پرائز کمیشن کے صدر ڈاکٹر پرکاش کمراڈی نے کہاکہ مرکزی حکومت کا اعلان کردہ بجٹ زرعی معاملات میں انتہائی مایوس کن ہے۔ اس میں بہتری لانے کی ذمہ داری اب ریاستی حکومت پر ہے۔ بجٹ اور زراعت کے موضوع پرشہر کے پریس کلب میں منعقد سیمینار کا افتتاح کرتے ہوئے ڈاکٹر پرکاش نے کہاکہ مرکزی حکومت کے بجٹ میں کسانوں کی آمدنی 5؍برسوں میں دگنی کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے لیکن کس طرح کرے گی حکومت نے اس کی کوئی واضح وضاحت نہیں کی ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے کہا کہ وہ گزشتہ 3؍برسوں سے قحط سالی کا شکار کسان فصلوں کے نقصان سے کافی پریشان ہیں اورکئی کسان قرضہ کے بوجھ سے دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کرلینے پر بھی مجبور ہوچکے ہیں۔ ان تمام باتوں کو سنجیدگی سے لے کر ریاستی حکومت اپنے بجٹ میں کسانوں کے لئے زیادہ سے زیادہ فنڈ مختص رکھنی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ زرعی شعبہ پر خصوصی توجہ مبذول کرنا ریاستی حکومت کے لئے بہت بڑا چیلنج ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ کسانوں کے فصلوں کو موزوں قیمتیں نہ ملنے کی اصل وجہ سیاسی مداخلت ہے۔ ان تمام باتوں کو ریاستی حکومت سنجیدگی سے لے کر اس پر بحث کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس ملک میں کرناٹک حکومت نے زرعی پالیسی جاری کی ہے اور اس کے لئے علاحدہ بجٹ پیش کرتی کررہی ہے۔ اس کے باوجود کرناٹک میں زرعی سرگرمیوں کے لئے کا فی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس مسئلہ کو دور کرنے کے لئے ریاستی حکومت اپنے بجٹ میں زیادہ سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بنگلور اگریکلچر یونیورسٹی کے وائس چانسلر شیونا نے کہاکہ ملک میں 26؍ملین ہکٹرعلاقہ زرعی سرگرمیاں نہ ہونے سے بیکار پڑا ہے۔ 160؍ملین ہیکٹر زمین پر دیگر سرگرمیاں انجام دی جارہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2030 تک ملک کی آبادی 160؍کروڑ تک پہنچ سکتی ہے جس کے بعد غذائی اجناس کی کافی زیادہ مانگ ہونے لگے گی۔ جاریہ سال کے دوران 260؍ملین ٹن غذائی اجناس 170؍ملین ٹن ترکاری اور پھل 70؍ملین ٹن دودھ، 30؍ملین ٹن گوشت خور، سمیت 720؍ملین ٹن غذائی اجناس کی پیداوار ہوگی۔ اگلے 15؍برسوں میں مذکورہ غذائی اجناب کی مانگ دگنی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان تمام باتوں کو سنجیدگی سے لے کر ریاستی حکومت زرعی شعبہ پر خصوصی توجہ مبذول کرنی چاہئے۔ اس موقع پر رعیت سنگھا ہسروسینا کے ریاستی صدر کوڈاہلی چندرشیکھر ،ڈاکٹر لکشمن ، کے سی رگھو انوسایما بھی موجود تھیں۔


Share: