سری نگر:10/جولائی (پی ٹی آئی) وادی کشمیر میں اپنی نوعیت کے پہلے واقعہ میں ریاستی پولیس نے جنگجو تنظیم لشکر طیبہ سے وابستہ ایک غیر ریاستی جنگجو کو گرفتار کرلیا ہے۔ گرفتار شدہ جنگجو کی شناخت سندیپ کمار شرما ساکن مظفر نگر اترپردیش کے طور پر کی گئی ہے پولیس کا کہنا ہے کہ سندیپ کمار شرما یکم جولائی کو جنوبی ضلع اننت ناگ کے ڈالگام میں مارے گئے لشکر طیبہ کے اعلیٰ کماندر بشیر لشکری کا قریبی ساتھی تھا۔ پولیس کے مطابق گرفتار شدہ غیر ریاستی جنگجو مختلف بینک، ڈکیتیوں اور سیکورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث رہاہے۔ سیکورٹی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ وادی میں 1990 کی دہائی میں شروع ہوئی مسلح شورش کے دوران کسی غیر ریاستی جنگجو (جموں و کشمیر کو چھوڑ کر ہندوستان کی کسی دوسری ریاست کے شہری) کی گرفتاری کا پہلا واقعہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق وادی میں کام کررہے غیر ریاستی مزدور 7لاکھ کے قریب ہے۔ ان میں سے بیشترمزدور وں کا تعلق شمالی ہندوستان کی ریاستوں اترپردیش، بہار سے ہے۔ کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس منیر احمد خان نے پیر کو ایک نیوز کانفرنس میں لشکر طیبہ جنگجو سندیپ کمار شرما کی گرفتاری کا دعویٰ کرتے ہوئے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ لشکر طیبہ دوسری ریاستوں سے تعلق رکھنے والے غیر مسلم نوجوانوں کو کشمیر میں بینک ڈکیتیوں اور جنگجو یانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کررہی ہے۔ ہمیں اب وادی میں غیر ریاستی مزدوروں کی نگرانی بڑھانی ہوگی۔ آئی جی پی نے کہاکہ لشکر طیبہ ماڈیول سے وابستہ دوافراد سندیپ کمار شرما کو گرفتار کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جراثیم پیشہ افراد اپنے ذاتی اغراض کے لیے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کررہے ہیں۔ یہ امر باعث تشویش ہے۔یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس کا ہمیں مستقبل میں سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یہ ایک نیا رجحان ہے۔ شرما، متعدد جنگجویانہ کاررائیوں کے علاوہ جنوبی کشمیر میں قریب آدھا درجن بینک اور اے ٹی ایم دکیتیوں میں ملوث رہاہے۔ پوچھ گچھ کے دوران سندیپ شرما نے اس بات کا اعتراف کرلیا کہ وہ لشکر طیبہ ماڈیول کا حصہ تھا۔ کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس منیر احمد خان نے پیر کو یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ شرما سیکورٹی فورسز پر ہوئے مختلف حملوں کا حصہ تھا۔ وہ گذشتہ ماہ جون کی 16تاریخ کو ضلع اننت ناگ کے اچھ بل میں ریاستی پولیس کی ایک پارٹی پر گھات لگا کر کئے گئے حملے میں ملوث تھا۔ اس حملے میں اسٹیشن ہاؤز آفیسر (ایس ایچ او) اچھ بل فیروز احمد ڈار سمیت پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔ آ ئی جی پی نے کہاکہ سندیپ شرمار گذشتہ ماہ کی 3 تاریخ کو سری نگر جموں قومی شاہراہ پر لورمنڈا قاضی گنڈ کے مقام پر فوجی قافلے پر کئے گئے حملے میں بھی ملوث تھا، اس حملے میں فوج کا ایک اہلکار شہید ہواتھا۔ علاوہ ازیں شرمار جنگجوؤں کے اس گروپ کا بھی حصہ تھا جس نے 13جون 2012ء کو اننت ناگ کے آنجی ڈورہ میں ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی رہائش گاہ میں قائم پولیس گارڈ روم سے ہتھیار اڑا لئے۔ آئی جی پی نے مزید کہا کہ شرما 2012ء میں کشمیر آیا اور ایک ویلڈر کی حیثیت سے کام کرنے لگا۔ لشکر طیبہ میں شامل ہونے سے قبل شبیر احمد نامی ایک مقامی نوجوان کے رابطے میں آگیا۔ انہوں نے کہاکہ شرما لشکر طیبہ سے وابستہ رہنے کے دوران جنگجویانہ سرگرمیوں میں سرگرم کردار ادا کرتارہا۔ سندیپ کمار لشکر طیبہ کے اعلیٰ کمانڈ بشیر لشکری کا دست راست تھا۔ معلوم ہو کہ بشیر لشکری کے سرپر حکومت نے 10لاکھ روپئے کا انعام رکھاتھا۔ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ پیر کو ایک تصادم میں جہاں یوپی کے ایک نوجوان سندیپ کمار مشرا کو گرفتار کیاگیا وہیں کلگام سے منیب شاہ نوجوان کو بھ گرفتار کیاگیاہے۔ ان دونوں کو آج پریس کانفرنس میں پیش کیاگیا۔