کراچی22جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)جنوبی پنجاب کے شہر ملتان میں پولیس نے پاکستانی ماڈل قندیل بلوچ کے مقدمۂ قتل میں مزید دو افراد کو حراست میں لے لیاہے۔قندیل بلوچ کو 15جولائی کی شب ان کے بھائی محمد وسیم نے قتل کر دیا تھا۔پولیس نے مرکزی ملزم وسیم کو قتل کے اگلے ہی دن ڈیرہ غازی خان سے حراست میں لے لیا تھا اور اس سے تفتیش کی جا رہی ہے۔مقدمے کی تفتیشی افسر عطیہ جعفری نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ حق نواز اور عباس نامی افراد کو محمد وسیم سے کی گئی تفتیش کی روشنی میں حراست میں لیا گیا ہے اور اب ان سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔گرفتار کیے گئے افراد میں سے حق نواز وسیم کا رشتہ دار ہے جبکہ محمد عباس وہ ٹیکسی ڈرائیور ہے جوقندیل بلوچ کے قتل کے بعد ملزم وسیم کو ڈیرہ غازی خان لے کر گیا تھا۔تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزم وسیم کے اقبالی بیان کی روشنی میں ان دونوں افراد کا قندیل بلوچ کے قتل میں کوئی کردار نہیں ہے تاہم اس سلسلے میں حتمی صورتحال تفتیش کے بعد ہی واضح ہو گی۔پولیس نے مرکزی ملزم وسیم کو قتل کے اگلے ہی دن ڈیرہ غازی خان سے حراست میں لے لیا تھا اور اس سے تفتیش کی جا رہی ہے۔خیال رہے کہ مقتولہ کی والدہ انور بی بی نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ وسیم نے انھیں نشہ آور دودھ پلانے کے بعد اپنے ایک دوست کو بلایا تاکہ قندیل کو قتل کیا جا سکے۔خاتون پولیس انسپکٹر کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں نامزد دوسرے ملزم نائب صوبیدار اسلم شاہین کو شاملِ تفتیش کرنے کے لیے اُن کے کمانڈر کو خط لکھا گیا ہے لیکن ابھی تک اس کا جواب موصول نہیں ہوا اور نہ ہی ملزم خود بیان دینے کے لیے تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوا ہے۔ملزم اسلم شاہین کو اعانت مجرمانہ کی دفعہ 109کے تحت اس مقدمے میں مقتولہ کے والد محمد عظیم نے نامزدکیا ہے تاہم اب ان کا کہنا ہے کہ ایسا انھوں نے غصّے کی حالت میں کیا اور اسلم کا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں۔عطیہ جعفری کا بھی کہنا تھا کہ ملزم اسلم شاہین کواس وقت تک گرفتار نہیں کیا جائے گا جب تک اُن کے قندیل بلوچ کے قتل میں ملوث ہونے کے واضح ثبوت نہیں مل جاتے۔تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ پولیس نے ملزم وسیم کے زیر استعمال موبائل فون کا ڈیٹا بھی نکلوا لیا ہے تاکہ اس بات کاپتاچلایاجا سکے کہ قتل کی واردات سے پہلے ملزم کا کس سے رابطہ رہا۔عطیہ جعفری کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم نے مفتی عبدالقوی خان کو بھی شامل تفتیش ہونے کے لیے طلب کر لیا ہے۔اُنھوں نے کہا کہ مفتی قوی کا بیان لینے کے بعد اُن سے قتل سے پہلے اُن کے ساتھ قندیل بلوچ کی تصاویر اور دیگر معاملات پر پوچھ گچھ کی جائے گی۔ملتان پولیس نے ملزم وسیم کی اہلیہ اوراس کی بھابھی کو بھی پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان دونوں خواتین کا بیان لینے کے بعد اُنھیں چھوڑدیا جائے گا۔دوسری جانب ڈی آئی جی ملتان رینج سلطان اعظم تیوری نے قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمے کی تفتیش پیشہ ورانہ انداز میں نہ کرنے پر تفتیشی ٹیم کے سربراہ ایس پی سیف اللہ خٹک سے بھی وضاحت طلب کی ہے۔