ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / سپا ۔بسپا اتحاد میں لوک دل کا الحاق، بد ل سکتی ہے مغربی یوپی کی سیاسی تصویر 

سپا ۔بسپا اتحاد میں لوک دل کا الحاق، بد ل سکتی ہے مغربی یوپی کی سیاسی تصویر 

Thu, 07 Mar 2019 02:24:39    S.O. News Service

نئی دہلی:06 /مارچ(ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا)اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی۔بی ایس پی کے اتحاد میں چودھری اجیت سنگھ کی پارٹی راشٹریہ لوک دل کی انٹری ہو گئی ہے۔ آر ایل ڈی کے اکاؤنٹ میں مغربی اترپردیش کی باغپت، مظفرنگر اور متھرا لوک سبھا سیٹ آئی ہیں۔ یہ تینوں نشستیں جاٹ اکثریتی اور آر ایل ڈی کے روایتی نشستیں مانی جاتی ہیں۔ موجودہ وقت میں تینوں نشستیں بی جے پی کے قبضے میں ہیں۔ ایسے میں ایس پی۔بی ایس پی کا ساتھ ملنے کے بعد آر ایل ڈی ان پر ا پنی واپسی کی امید لگائے ہے۔ایس پی صدر اکھلیش یادو اور آر ایل ڈی نائب صدر جینت چودھری نے منگل کو مشترکہ پریس کانفرنس کرکے تیسرے اتحادی کے طور پر آر ایل ڈی کے اتحاد میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔اکھلیش یادو نے باغپت، متھرا کے علاوہ اپنے کوٹہ سے مظفرنگر کی سیٹ بھی آر ایل ڈی کو دے کر اتحاد کی دقتوں کو سلجھا لیا ہے اور اسے کانگریس صفوں میں جانے سے روک لیا ہے۔مغربی اتر پردیش میں آر ایل ڈی کی اچھی خاصی گرفت رہی ہے ۔ لیکن مظفرنگر فسادات کی آنچ میں اس کی ساری سیاست صفر ہو گئی۔ صوبہ کے جاٹوں نے آر ایل ڈی سے ایسا منہ موڑا کہ چودھری اجیت سنگھ کو باغپت جیسی اپنی روایتی پارلیمانی سیٹ کو بھی گنوانی پڑی تھی ۔ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں آر ایل ڈی کو ایک بھی سیٹ نہیں ملی۔اتنا ہی نہیں 2017 کے اسمبلی انتخابات میں آر ایل ڈی کا محض ایک رکن اسمبلی جیتنے میں کامیاب رہا، لیکن بعد میں وہ بھی بی جے پی میں چلا گیا۔موجودہ سیاسی مزاج کو بھانپتے ہوئے چودھری اجیت سنگھ اپنے سیاسی وجود کو بچائے رکھنے کے لئے ایس پی۔بی ایس پی اتحاد میں حصہ دار بنے ، اسی کا نتیجہ ہے کہ انہیں تین سیٹوں پر ہی اکتفا کرنا پڑا ہے جبکہ ایک دور میں مغرب یوپی میں آر ایل ڈی کی طوطی بولتی تھی۔مغربی یوپی کی باغپت، مظفرنگر اور متھرا کے علاوہ میرٹھ، ہاپوڑ، آگرہ، سہارنپور، امروہہ، بجنور، نگینہ، ہاتھرس، علی گڑھ اور کیرانہ لوک سبھا سیٹ پر آر ایل ڈی کو مضبو ط عوامی حمایت ملتی رہی ہے ۔ 2009 کے لوک سبھا انتخابات میں آر ایل ڈی پانچ لوک سبھا سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی تھی۔مغربی یوپی کی تقریبا ایک درجن لوک سبھا سیٹیں ہیں، جہاں مسلمانوں کی آبادی 25 سے 40 فیصد تک ہے، جس کا بڑا طبقہ ایس پی کے ساتھ ہے۔ ایسے ہی دلت ووٹروں کی تعداد بھی کافی ہے جس پر بی ایس پی کی مضبوط گرفت ہے۔ وہیں، مغربی یوپی کی کئی لوک سبھا سیٹیں ہیں، جہاں جاٹ ووٹر ہار جیت طے کرتے ہیں۔ ایک دور میں یہ آر ایل ڈی کے ساتھ تھے، لیکن مظفرنگر فسادات کے بعد بی جے پی کے ساتھ جڑ گئے۔ اگرچہ کیرانہ لوک سبھا سیٹ پر ہوئے ضمنی انتخابات سے جاٹ ووٹروں نے ایک بار پھر آر ایل ڈی کی طرف رخ کیا ہے۔گزشتہ لوک سبھا انتخابات جیسی صورتحال اس وقت نہیں نظر آ رہی ہے ، خاص طور پر جاٹ برادری کے جھکاؤ بی جے پی سے ملنے والے زخم کے بعد ایک بار پھر آر ایل ڈی کی جانب ہوا ہے۔ ایس پی۔بی ایس پی اور آر ایل ڈی اتحاد اگر دلت، مسلم اور جاٹ ووٹروں کو متحد کرنے میں کامیاب رہتا ہے تو بی جے پی کے لئے مغربی یوپی میں کمل کھلانا ناممکن ہوسکتا ہے ۔ 


Share: