ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / سدرامیا سمیت دیگر لیڈران کی سرگرمیوں سے مخلوط حکومت کی بد نامی کا اندیشہ، نیا بجٹ پیش کرنے کی راہ میں بھی رکاوٹ

سدرامیا سمیت دیگر لیڈران کی سرگرمیوں سے مخلوط حکومت کی بد نامی کا اندیشہ، نیا بجٹ پیش کرنے کی راہ میں بھی رکاوٹ

Wed, 27 Jun 2018 01:53:27    S.O. News Service

بنگلور:27/جون (ایس او نیوز) وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے ہائی کمان سے شکایت کی ہے کہ سابق وزیراعلیٰ سدرامیا نیا بجٹ پیش کیے جانے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کررہے ہیں۔ پیر کی رات راہل گاندھی سے فون پر رابطہ کرکے کمار سوامی نے شکایت کی کہ نئی حکومت قائم ہونے کے بعد نیا بجٹ پیش کرنا ایک عام روایت ہے جس کے لیے آپ کے علاوہ نائب وزیراعلیٰ پرمیشور نے بھی منظوری دے دی ہے، لیکن سدرامیا بے تکے بیانات جاری کرکے حکومت کو پریشانی میں ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس سے عوام میں غلط تاثر جائیگا۔ اس کے جواب میں راہل گاندھی نے کہاہے کہ آپ کا کام آپ کیجئے، سدرامیا کومنانا ہم پر چھوڑ دیجئے۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی نے کانگریس ہائی کمان سمیت چند اہم لیڈروں سے شکایت کی ہے کہ ریاست میں سابق وزیراعلیٰ سدرامیا سمیت کانگریس پارٹی کے چند غیر مطمئن لیڈر اب ریاست میں قائم کانگریس -جے ڈی ایس مخلوط حکومت کوکمزور کرنے کی سرگرمیاں چلارہے ہیں۔ کمار سوامی نے شکایت کی ہے کہ سدرامیا جو اس وقت دھر مستھلہ کے آروگیہ دھاما میں علاج کے لیے داخل ہوئے ہیں وہ وہیں سے کانگریس امور کے انچارج کے سی وینوگوپال سے رابطہ کررہے ہیں اور حکومت کیخلاف سازش کررہے ہیں۔ وزیراعلیٰ کمارسوامی نے کہاہے کہ خود راہل گاندھی نے ہی ان سے ملاقات کے دوران کہاتھا کہ کسانوں کاقرضہ معاف کرنے اور بجٹ کی تیاری کرنے میں کانگریس کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن اس کے باجود سدرامیا اپنے وفاداروں کو ساتھ لیکر مخلوط حکومت کیخلاف آواز اٹھارہے ہیں اور یہی نہیں سدرامیا مخلوط حکومت اور اس کے انتظامیہ کے خلاف راست طورپر عدم اطمینان کا اظہار کررہے ہیں۔ یہ بھی کہاجارہاہے کہ وہ اپنے احساسات کو شائع کرکے سوشیل میڈیا کے ذریعہ انہیں وائرل بھی کررہے ہیں۔ پچھلے دنوں سے میڈیا کا ایک طبقہ ایسی خبروں کو شائع کرکے مخلوط حکومت کے خلاف پریشانی بھی کھڑی کررہاہے۔ سدرامیا کے بیانات ظاہر ہونے کے بعد اب کانگریس کے اراکین اسمبلی کھلے عام حکومت پر تنقید کرنے لگے ہیں۔ سدرامیا نے کانگریس ہائی کمان کو معلوم کرایاہے کہ نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور اور وہ خود حکومت کے وقار کو بڑھانے ترقیاتی پروگرام ترتیب دینے پر پوری توجہ صرف کرنے میں جٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس ایک ماہ کے عرصے میں کوئی انتقامی سیاست کو ہوانہیں دی ہے لیکن سابق وزیراعلیٰ سدرامیا کے رویہ سے دکھ ہواہے۔ کمارسوامی نے ہائی کمان سے یہ بھی کہاہے کہ وزارت نہ ملنے سے کانگریس کے جولیڈر ناراض تھے ان سے انہوں نے خود رابطہ کرکے انہیں مطمئن کرنے اور سمجھانے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے اور کبھی دوستی میں دراڑ ڈالنے کی انہوں نے کوئی کوشش نہیں کی ہے۔ کانگریس کو نقصان پہنچانے والا کوئی قدم بھی انہیں اٹھایا ہے اور یہ بھی یقین دلایا ہے کہ سدرامیا کے دور میں جاری کردہ پروگراموں کو اپنے بجٹ میں بھی بحال رکھیں گے اس کے باوجود ایسی کوششیں کی جارہی ہیں۔ کمار سوامی نے یہ شکایت بھی کی ہے کہ حالیہ انتخابات میں کانگریس سے کامیاب ہونے والے چند سابق جے ڈی ایس اراکین بھی سدرامیا کے کان بھر رہے ہیں۔ اوران کا ساتھ دے رہے ہیں۔ انہیں یہ بھی پتہ چلاہے کہ کانگریس کی ٹکٹ پر انتخاب لڑ کر شکست کھانے والے ان کی پارٹی کے سابق رکن چلورایا سوامی کی قیادت میں ایک اجلاس چلایاگیا کہ پارلیمانی انتخابات میں جے ڈی ایس کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیاجائے۔ باوثوق ذرائع سے خبر ملی ہے کہ کے سی وینو گوپال سے کمارسوامی کی کی گئی اس شکایت کے بعد کے سی وینو گوپال نے نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور، پارٹی کے کارگزار صدر دنیش گنڈوراؤاور کرشنابائر ے گوڑا سے رابطہ کرکے کرناٹک میں کانگریس لیڈروں کی جاری ان سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلات طلب کی ہیں۔ 
 


Share: