ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / دہلی الیکشن کمشنر کا الیکشن کمیشن کو خط، پارلیمانی سکریٹریوں کو بتایا غیر قانونی

دہلی الیکشن کمشنر کا الیکشن کمیشن کو خط، پارلیمانی سکریٹریوں کو بتایا غیر قانونی

Thu, 16 Jun 2016 12:48:50    S.O. News Service

نئی دہلی،15؍جون (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کجریوال کے21ممبران اسمبلی کی رکنیت پر منڈلا رہا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔دہلی کے الیکشن کمشنر نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ دہلی میں پارلیمانی سکریٹری کا عہدہ غیر قانونی ہے۔قابل ذکرہے کہ صدر نے دہلی حکومت کے اس بل کومنظوری دینے سے انکار کر دیا ہے، جس میں پارلیمانی سکریٹری کے عہدہ کو ’آفس آف پروفٹ ‘یعنی فائدہ کے عہدے سے الگ کرنے کی تجویز تھی۔بل کو نا منظورکرنے کے بعد عام آدمی پارٹی کے ممبران اسمبلی کی رکنیت خطرے میں ہے اور اس پرفیصلہ الیکشن کمیشن کو کرنا ہے۔دہلی الیکشن کمشنر کی رپورٹ سے یہ خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔کیجریوال نے دہلی میں اپنے21ممبران اسمبلی کو پارلیمانی سکریٹری مقرر کر رکھا ہے۔دہلی کی سابق وزیر اعلی شیلا دکشت کا کہنا ہے کہ پارلیمانی سکریٹری کو لے کر کیجریوال کو جو بولنا ہے بولیں، لیکن پارلیمانی سکریٹری کی تقرری غیر آئینی ہے۔عام آدمی کی حکومت ہونے کا دعویٰ کرنے والے کیجریوال اپنے دور کے پہلے بڑے آئینی بحران میں پھنس گئے ہیں۔صدر نے دہلی حکومت کے پارلیمانی سکریٹری کے عہدے کو فائدہ کے عہدے سے باہر رکھنے والے بل کو مسترد کر دیا ہے۔اب21ممبران اسمبلی کامستقبل تاریکی میں ہے۔اگر عام آدمی پارٹی کے21ممبران اسمبلی کی رکنیت فوائد کے عہدے پر کام کرنے کی وجہ جاتی ہے ،تو یہ عام آدمی پارٹی کی بڑی سیاسی اور اخلاقی شکست ہوگی۔کجریوال حکومت یہ دلیل دے رہی ہے کہ ان سکریٹریوں کی تقرری سرکاری کام کاج کو آسان بنانے کے لیے کی گئی تھی اوران عہدوں کے لیے الگ سے کوئی تنخواہ یا کسی دوسرے قسم کافائدہ نہیں ملتا لیکن قانونی ماہرین کہہ رہے ہیں کہ صرف پیسہ،ِگاڑی،بنگلہ رہنا ہی فائدہ لینا نہیں ہے ۔اگراے سی کی ہواکھائی، بجلی پانی بھی خرچ کیا ہو توبھی وہ فائدہ کا عہدہ مانا جائے گا۔اگرپارلیمانی سکریٹریوں کی فہرست اور کابینہ کو دیکھیں توکجریوال کی کوشش ووٹ بینک اتحاد بنانے کی صاف نظر آتی ہے۔اس کے ساتھ دہلی میں رہ رہے مختلف علاقوں کے لوگوں کو نمائندگی دینے کی کوشش بھی نظر آتی ہے۔پوروانچل، پنجابی رائے دہندگان پر پارٹی کی گرفت مضبوط کرنے کے لیے اس فہرست میں لوگوں کو شامل کیا گیا۔اس میں پنجاب الیکشن کی تیاری بھی نظر آتی ہے۔صدر کے فیصلے سے ممبران اسمبلی کی رکنیت فوری طور پر نہیں ختم ہو گی۔اس کا فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا۔الیکشن کمیشن پہلے ہی اس معاملے پر نوٹس لے چکا ہے۔یہ معاملہ کورٹ میں بھی چل سکتا ہے۔صدر کے بل کو مسترد کرنے کے بعد اب ممبران اسمبلی کی رکنیت کو لے کر فیصلہ آنے میں6 مہینے تک کا وقت لگ سکتا ہے۔یعنی اگر ان 21اراکین اسمبلی کی رکنیت منسوخ ہو جاتی ہے تو پھر دہلی میں پنجاب اسمبلی سے پہلے یاساتھ میں ہی ضمنی انتخابات کرائے جائیں گے۔اگر الیکشن ہوئے تو یہ اروند کیجریوال کے لیے وقار کی لڑائی ہوگی۔اگرکیجریوال ساری سیٹیں دوبارہ نہ جیت پائے تو پارٹی کو نقصان ہوگا اور اگر یہ انتخابات پنجاب اسمبلی انتخابات سے پہلے ہوئے تو دوہری پریشانی ہوگی۔ گورنمنٹ آف نیشنل کیپٹل ٹیریٹری آف دہلی ایکٹ1991کے تحت دہلی میں صرف ایک پارلیمانی سکریٹری کا عہدہ ہو سکتا ہے۔یہ پارلیمانی سکریٹری وزیراعلیٰ کے دفتر سے جڑاہوگا لیکن کجریوال نے سیدھے 21ممبران اسمبلی کو یہ عہدے دے دیا۔


Share: