نئی دہلی:17/ جنوری (ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا) اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے آج یہاں کہا کہ مرکز کی مودی حکومت ملک میں وقف املاک کو سماج کو تعلیمی واقتصادی طور پر با اختیار بنانے کے لیے بہتر استعمال کرنے کی مہم کو کامیابی سے آگے بڑھا رہی ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار آج نئی دہلی میں وقف املاک کے تعلق سے نئے رہنما خطوط کے لئے جسٹس (ریٹائرڈ) ذکی اللہ خان کی قیادت میں قائم 5 رکنی کمیٹی کی طرف سے انہیں رپورٹ پیش کرنے کے دوران کیا۔مسٹر نقوی نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ کمیٹی کی رپورٹ کی سفارشات وقف املاک کے بہتر استعمال اور دہائیوں سے تنازعات کا شکار املاک کے تصفیے کے لیے وقف ضابطوں کوآسان اور مؤثر بنائیں گی۔ مرکزی حکومت اس کمیٹی کی سفارشات کا مطالعہ کرکے ضروری اقدامات اٹھائے گی۔مسٹر نقوی نے کہا کہ وقف املاک کا سماج کی فلاح بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم کے لیے بہتر استعمال کرنے والے ’’متولیوں‘‘ کو مرکزی حکومت اعزاز سے نوار رہی ہے۔مسٹر نقوی نے کہا کہ سینٹرل وقف کونسل، وقف ریکارڈ کے ڈیجیٹائزیشن کے لیے ریاستی وقف بورڈوں کو اقتصادی مدد فراہم کر رہی ہے تاکہ سبھی ریاستی وقف بورڈ، وقف املاک کے ڈیجیٹائزیشن کام مقررہ میعادکارمیں مکمل کر سکیں۔90 فیصد وقف املاک کا ڈیجیٹائزیشن مکمل ہو گیا ہے اور باقی جائیدادیں بھی جلد ہی ڈیجیٹائزہوجائیں گی۔