برلن 3جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)جرمنی میں یورپی یونین کے رکن ممالک سے ترک وطن کر کے آنے والوں کی تعداد میں ریکارڈ حد تک اضافہ دیکھاگیاہے۔ان تارکین وطن میں رومانیہ، پولینڈ اور بلغاریہ سے تعلق رکھنے والے باشندوں کی تعدادسب سے زیادہ ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی نے جرمن جریدے دی وَیلٹ کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ برس یورپی یونین کے رکن ممالک سے ترک وطن کر کے جرمنی میں آباد ہونے والے شہریوں کی تعداد تقریباََچھ لاکھ پچاسی ہزاررہی۔بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کا کہنا ہے کہ یونان میں موجود ہزاروں تارکینِ وطن بین الاقوامی اداروں کی مددسے اپنے اپنے وطنوں کی جانب لوٹ چکے ہیں جن میں سینکڑوں پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔ اس جریدے نے حکومتی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سن دو ہزار پندرہ میں متعدد یورپی ممالک سے مجموعی طورپر685,485افراد جرمنی آئے، جن میں سے تقریباََتین لاکھ واپس لوٹ گئے۔تاہم پھر بھی سن 2014کے مقابلے میں گزشتہ برس جرمنی آنے والے ان تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہوا۔دی وَیلٹ نے لکھا ہے کہ اس نے یہ اعداد و شمار ترک وطن اور مہاجرین سے متعلقہ امور کے نگران وفاقی جرمن دفتر BAMFسے حاصل کیے۔جرمنی میں اقتصادی خوشحالی اور بے روزگاری کی کم شرح دراصل دیگر یورپی ممالک کے باشندوں کے ایسے فیصلوں کا باعث بنتی ہے کہ وہ ملازمتوں اور مالی فوائد کی خاطر جرمنی کا رخ کریں۔ان اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس جرمنی آنے والے ان تارکین وطن کی سب سے بڑی تعداد کا تعلق رومانیہ سے رہا جن کی تعداد ایک لاکھ 75ہزار بتائی گئی ہے۔دوسرے نمبر پر پولینڈ کے باشندے تھے، جن کی تعداد ڈیڑھ لاکھ رہی۔ دی وَیلٹ کے مطابق گزشتہ برس بلغاریہ سے جرمنی نقل مکانی کرنے والے شہریوں کی تعداد ستّر ہزار رہی۔رواں برس اپریل میں جرمنی میں ایک نیا قانون تجویز کیا گیا تھا، جس کے تحت یورپی یونین کے رکن ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کے لیے سماجی مراعات کو ڈرامائی طور پر محدود کر دینے کی تجویز دی گئی تھی۔دی وَیلٹ کے مطابق اس وقت جرمنی میں4.1ملین تارکین وطن کا تعلق یورپی یونین کی مختلف رکن ریاستوں سے ہے۔