برلن،18مارچ(ایس ا و نیوز؍آئی این ایس انڈیا)جرمن شہر بادن بادن میں جی20 ممالک کے وزرائے خزانہ کا اجلاس جاری ہے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کے وزرائے خزانہ کو عالمی تجارت کے معاملے پر یکساں موقف اپنانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔جرمنی کی وزیر اقتصادیات برگیٹے سیپریس نے کہا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’پروٹیکشنزم پر مبنی پالیسیوں‘ سے جرمنی کو ہدف بنانے کی کوشش کی گئی تو برلن حکومت بھی واشنگٹن کے خلاف جوابی اقدام کر سکتی ہے۔ ایک مقامی ریڈیو ڈوئچ لینڈ فْنک کے ساتھ کی گئی اپنی ایک گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اگر امریکا نے جرمن کاروں پر وسیع پیمانے پر ٹیکس عائد کیا تو جرمنی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزئشن میں قانونی کارروائی کرے گا۔یہ امر بھی اہم ہے کہ امریکا اور جرمنی کے مابین پچاس بلین ڈالرز کی اضافی تجارت ایک متنازعہ معاملہ بنا ہوا ہے اور یہ معاملہ بھی جرمن چانسلر کے ہمراہ دورہ امریکا پر گئے ہوئے تجارتی وفد کی میٹنگوں میں اٹھایا جا سکتا ہے۔ جرمنی کی انجینیئرنگ ایسوسی ایشن کے سربراہ مارٹین ویلکر نے بھی پروٹیکشنزم کو جرمن اداروں کے لیے زہر قرار دیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ کہہ رکھا ہے کہ جرمن کار ساز ادارے بی ایم ڈبلیو کے میکسیکو میں لگائے جانے والے پلانٹ کی تیار کردہ جو موٹر گاڑیاں امریکا لائی جائیں گی، اْن پر 35فیصد بارڈر ٹیکس کا نفاد کر دیں گے۔ اس ٹیکس کے حوالے سے جرمن وزیر کا کہنا ہے کہ اس پر فوری طور پر بات کرنا مشکل ہے کیوں کہ امریکی ٹیکس نظام خاصا پیچیدہ ہے۔جرمن خاتون وزیر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے، جب ایک طرف جرمن چانسلر امریکا کے دورے پر ہیں تو دوسری جانب جرمنی میں جی ٹوئنٹی کے وزرائے خزانہ کا اجلاس جاری ہے۔