بنگلورو،13؍مارچ(ایس او نیوز) برہت بنگلور مہانگر پالیکے نے اپنے مالی وسائل میں اضافہ کے مقصد سے ریاستی حکومت سے مانگ کرنے پر اتفاق کیا ہے کہ تفریحی ٹیکس، پروفیشنل ٹیکس اور لکژری ٹیکس وصول کرنے کی ذمہ داری بی بی ایم پی کے سپرد کردی جائے۔ آج بی بی ایم پی کونسل میٹنگ میں جو بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں خصوصی طور پر طلب کی گئی تھی، اپوزیشن لیڈ ر پدمانابھا ریڈی نے مشورہ دیا جس کا تمام نے خیر مقدم کیا۔ رواں ماہ کے آخر میں پیش ہونے والے بجٹ کے سلسلے میں منعقدہ ایک مشاورتی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے پدمانابھا ریڈی نے کہاکہ بی بی ایم پی بجٹ میں اثاثہ ٹیکس کی وصولی کے ساتھ بیسکام ، سلم کلیئرنس بورڈ، اور دیگر محکموں کو ہونے والی آمدنی میں بی بی ایم پی کی حصہ داری پر زور دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ چنئی میں تفریحی ٹیکس وہاں کی سٹی کارپوریشن وصول کرتی ہے، انہی خطوط پر تفریحی اور لکژری ٹیکس وصول کرنے کی ذمہ داری اگر بی بی ایم پی کو دی جائے تو اس سے بلدی ادارہ کو بارہ سو کروڑ روپیوں کا فائدہ ہوگا۔ انہوں نے ٹیکس اینڈ فائنانس کمیٹی چیرمین گنا شیکھر سے مطالبہ کیا کہ وہ حکومت پر اس کیلئے دباؤ ڈالیں۔ کرناٹکا میونسپل کونسل ایکٹ کے تحت ٹیکس بورڈ تشکیل دینے کی گنجائش ہے، لیکن اب تک یہ بورڈ تشکیل نہیں دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ شہر میں جو جائیدادیں اثاثہ ٹیکس کے دائرہ سے باہر ہیں ان کی نشاندہی کرکے اگر انہیں پی آئی ڈی نمبر الاٹ کیاجائے تو ان سے بھی ٹیکس وصول کرکے بی بی ایم پی کی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ اثاثہ ٹیکس کے متلعق خود اندازہ لگائیے اسکیم کی خامیوں کو دور کرکے اسے درست کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ جن زمینات کا کنورشن ہوچکا ہے، ان سے صرف ڈیولپمنٹ چارجس وصول کئے جارہے ہیں۔ اگر ان سے بیٹر منٹ چارجس وصول کرکے یہ کھاتہ جاری کیا جائے تو اس سے بھی بی ایم پی کو آمدنی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں ایک معاملہ عدالت میں زیر غور ہے اگر اس پر فیصلہ ہوجائے تو بی بی ایم پی کیلئے راستہ آسان ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ شہر بھر میں میٹرو ٹرین خدمات کی شروعات کے بعد ان اسٹیشنوں کو بی بی ایم پی کے ٹیکس دائرہ میں لانے کی ضرورت ہے، یہاں پر جو اشتہارات نمائش کیلئے لگائے گئے ہیں ان کا ٹیکس بی بی ایم پی کو جانا چاہئے۔ پدمانابھا ریڈی نے کہا کہ شہر بھر میں بے تحاشہ موبائل ٹاورس کھڑے کئے جارہے ہیں ، ان سے جو فیس بی بی ایم پی کو ملنی چاہئے وہ حکومت کے مختلف محکمے حاصل کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ بی بی ایم پی کو اس کیلئے اپنا ایک الگ نظام وضع کرنا چاہئے تاکہ تمام محکموں کو الگ الگ ادا کیاجانے والا ٹیکس بی بی ایم پی کے کھاتے میں آئے، اس سے بی بی ایم پی کو سالانہ ہزاروں کروڑ روپیوں کی آمدنی ہوسکتی ہے۔ او ایف سی کیبل بچھانے کا ٹیکس اگر مناسب طور پر وصول کیا جائے تو اس سے بھی کافی آمدنی ہوسکتی ہے۔ اس موقع پر ڈی جے ہلی کے کارپوریٹر سمپت راج نے مخاطب ہوکر کہاکہ شہر بھر میں جھونپڑ پٹیوں کے نام پر بڑے بڑے علاقے موجود ہیں ، لیکن وہاں جھونپڑ پٹیاں نہیں بلکہ پکی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں۔ان عمارتوں سے ٹیکس وصول کرنا لازمی ہے، ان عمارتوں کے مالکان کو بی بی ایم پی کی طرف سے حق پترے جاری کئے جائیں اور ٹیکس وصول کرنے کا سلسلہ شروع کردیا جائے۔بہت ساری عمارتوں کو کثیر منزلہ تعمیر کیاگیا ہے، اور ان سے مالکان بھاری کرایہ بھی وصول کررہے ہیں۔ بی بی ایم پی کے ضابطہ کے مطابق ہر بڑی عمارت میں تہہ خانہ پارکنگ کیلئے مختص کیا جانا چاہئے، لیکن اکثر عمارتوں میں تہہ خانہ کرایہ پر دے دیا گیا ہے، اس سے لاکھوں روپیوں کا کرایہ حاصل کیاجارہا ہے۔ انہوں نے بی بی ایم پی افسران کوآواز دی کہ وہ ان عمارتوں کے تہہ خانے اور سیٹ بیاک کی خالی جگہ کا ٹیکس بھی وصول کریں۔ میونسپل کونسل ایکٹ کے تحت اگر اس کیلئے ترمیم درکار ہے تو اس کیلئے بھی ریاستی حکومت پرزور دیا جائے۔