ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بی جے پی کو لگام صرف جے ڈی ایس ہی کس سکتی ہے: کمار سوامی

بی جے پی کو لگام صرف جے ڈی ایس ہی کس سکتی ہے: کمار سوامی

Tue, 14 Mar 2017 10:40:19    S.O. News Service

بنگلورو،13؍مارچ(ایس او نیوز) سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی جنتادل(ایس) صدر ایچ ڈی کمار سوامی نے کہاکہ اترپردیش اور اتراکھنڈ میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد بی جے پی کے قائدین بالخصوص وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے قومی صدر امیت شا اس خوش فہمی میں نہ رہیں کہ کرناٹک میں بھی ان کا جادو چل جائے گا۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کمار سوامی نے کہاکہ اگلے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے گھوڑوں پر جنتادل (ایس) زبردست لگام کسے گی۔انہوں نے کہاکہ تنہا کانگریس کی طرف سے بی جے پی کی رفتار پر روک لگانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے، اس پر کوئی لگام اگر کس سکتا ہے تو وہ صرف جنتادل (ایس) ہے۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی اب جس رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے اس سے یہی لگتا ہے کہ وہ ریاست میں سدرامیا حکومت کو اپنی میعاد مکمل کرنے نہیں دے گی، اور آنے والے چھ ماہ کے اندر ریاستی اسمبلی کے انتخابات ہوجائیں گے۔ کمار سوامی نے کہاکہ اترپردیش انتخابات کے نتائج کا کوئی سیاسی اثر کرناٹک پر نہیں پڑ ے گا۔ یو پی کے حالات الگ ہیں اور کرناٹک کے الگ۔ بی جے پی نے اترپردیش میں جو فرقہ پرست ایجنڈا رکھ کر انتخابات کا سامنا کیا کرناٹک میں یہ سیاست نہیں چلے گی۔ ریاستی عوام فرقہ پرستی کو پنپنے کا موقع قطعاً نہیں دیں گے، اس کے علاوہ بی جے پی نے اترپردیش میں سماج وادی پارٹی کے جھگڑے کا بھر پور فائدہ اٹھایا ۔ کمار سوامی نے کہاکہ ننجنگڈگڑھ اور گنڈل پیٹ اسمبلی حلقوں میں جنتادل (ایس) امیدوار نہ کھڑا کرنے کا ان کا ذاتی موقف ہے، لیکن پارٹی کے اراکین اسمبلی اور لیڈروں سے تبادلۂ خیال کرکے اس ضمن میں قطعی فیصلہ لیا جائے گا۔ 15 مارچ کو پارٹی کے قومی صدر وسابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا نے اراکین اسمبلی کی میٹنگ طلب کی ہے جس میں تبادلۂ خیال کرکے طے کیا جائے گا کہ پارٹی امیدوار ان دو حلقوں میں اتارے جائیں یا نہیں؟۔ انہوں نے کہاکہ جنتادل (ایس) ریاستی عوام تک پہنچنے کیلئے بہت جلد سوشیل میڈیا کا بھرپور استعمال کرے گی۔ خاص طور پر فیس بک ، گوگل ، یوٹوب ، ساؤنڈ فلوڈ وغیرہ کے ذریعہ پارٹی اور وہ بذات خود عوام تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ پارٹی پر سوشیل میڈیا کے ذریعہ ہونے والی تنقیدوں کا بھی وہ خود جواب دیں گے۔


Share: