نئی دہلی، 12؍نومبر(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے 500اور 1000 روپے کے پرانے نوٹوں کا چلن بند کرنے کو ایک بڑا گھوٹالہ بتاتے ہوئے آج الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے اعلان سے کافی پہلے ہی بی جے پی نے اپنے تمام دوستوں کو فیصلے کی معلومات دے دی تھی، جس کی وجہ سے وہ لوگ پہلے ہی اپنا بندوبست کرچکے تھے۔
مودی کے اس اعلان پر راست حملہ کرتے ہویے اروند کجریوال نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لیں۔ انہوں نے مرکز کے اس فیصلے کو کالا بازاری کرنے والے لوگوں کے بجائے عام آدمی کی چھوٹی بچت پرسرجیکل اسٹرائیک بتایا۔ کیجریوال نے اپنے دعوے کو درست ثابت کرنے کے لیے کہا کہ بی جے پی کی پنجاب شاخ کے صدر سنجیو کمبوج مودی کے اعلان سے کچھ دن پہلے ہی سوشل میڈیا پر 2000 روپے کے نئے نوٹوں کے ساتھ نظر آئے تھے۔انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ جولائی سے ستمبر تک بینکوں میں پیسے جمع کرنے میں اچانک کافی تیزی آئی تھی جس سے صاف اشارہ ملتا ہے کہ بی جے پی نے 500اور 1000روپے کے پرانے نوٹوں کا چلن بند کرنے کے وزیر اعظم کے اعلان سے کافی پہلے ہی اپنے تمام دوستوں کو اس کی اطلاع دے دی تھی۔وزیر اعلی نے دعوی کیا کہ پرانے نوٹوں کا چلن بند کرنے سے بلیک منی نظام میں واپسی نہیں آئے گی ۔انہوں نے ساتھ ہی ایک نیوز چینل کی رپورٹ دکھائی جس میں جولائی- ستمبر کی سہ ماہی میں بینکوں میں پیسے جمع کرانے میں تیزی آنے کا دعوی کیا گیاہے اور کہا گیاہے کہ اس مدت سے پہلے بینکوں میں کافی کم پیسے جمع تھے۔