بھٹکل 19/مئی (ایس او نیوز) پڑوسی علاقہ شیرور میں روڈ پر گری ہوئی الیکٹرک وائر پر پیر رکھنے کے نتیجے میں ایک شخص کی موت واقع ہوگئی جس کی شناخت محمد ارشاد کورڈی(52) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔واردات اتوار صبح قریب چھ بجے پیش آئی۔
واردات کے تعلق سے ایک سماجی کارکن نے بتایا کہ شیرور مارکٹ کے قریب ہاڑوین کوڑی علاقہ میں ارشاد صاحب کسی کام سے اپنے گھر سے باہر نکل کر کچھ قدم آگے بڑھے ہی تھے کہ ان کے قدم سڑک پر گری الیکٹرک وائر پر پڑگئے جس میں بجلی دوڑ رہی تھی۔ پیر الیکٹرک وائر کو چھوتے ہی پورے بدن میں بجلی دوڑ گئی اور وہ نیچے گرپڑے۔ آواز سن کر آس پاس موجود خواتین ان کی مدد کے لئے آگے بڑھی، مگر خود ارشاد صاحب نے اُنہیں چوکّناکرایا اور اُنہیں سوکھی لکڑی لے کر آنے کی ہدایت دی ۔ فوری طور پر لکڑی کی مدد لی گئی اور کافی مشقتوں کے بعد انہیں بجلی کی تار سے نجات دلاکر کنارے لایا گیا، پتہ چلا ہے کہ اُس وقت اُن کی سانسیں چل رہی تھی، پھر انہیں گھر کے اندر لے جایا گیا، جہاں پہنچنے تک اُن کی موت واقع ہوگئی۔ پتہ چلا ہے کہ مقامی ڈاکٹر نے پمپنگ کرکے سانسوں کو بحال کرنے کی کافی کوشش کی، مگروہ جانبر نہ ہوسکے۔ انا للہ و اناالیہ راجعون۔
بتایا گیا ہے کہ شیرور میں رات سے ہی بارش ہورہی تھی اور مرحوم کے گھر کے باہر ہی الیکٹرک ٹرانسفارمر نصب ہے، بتایا گیا ہے کہ اُسی ٹرانسفارمر سے نکلا ہوا ایک کیبل غالباً رات کو روڈ پر گرا ہوا تھا جس میں بجلی دوڑ رہی تھی۔ صبح جیسے ہی ارشاد صاحب گھر سے باہر آئے، الیکٹرک کیبل کی زد میں آگئے جس سے ان کی موت واقع ہوگئی۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی کرناٹکا الیکٹری سٹی بورڈ (کے ای بی) کے افسران سمیت پنچایت کے ذمہ داران بھی جائے وقوع پر پہنچ گئے اور حالات کا جائزہ لیتے ہوئے گھروالوں سے تعزیت کی۔ ا س موقع پر مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ بجلی کے تار اکثر نیچے گرتے رہتے ہیں، مگر بروقت اُس کی مرمت نہیں کی جاتی، عوام کا کہنا تھا کہ رات کو ہی بجلی کی تار نیچے گری تھی ، اگر اُسی وقت محکمہ الیکٹری سٹی کے اہلکار اپنی ڈیوٹی انجام دیتے تو اس حادثے کو روکا جاسکتا تھا۔ عوام کے مطابق محکمہ الیکٹری سٹی کی لاپرواہی اس حادثے کےلئے ذمہ دار ہے۔
ارشاد صاحب کی میت پوسٹ مارٹم کے لئے بیندور سرکاری اسپتال منتقل کی گئی ہے۔
بیندور پولس تھانہ میں اس تعلق سے معاملہ درج کیا گیا ہے۔ پولس مزید چھان بین کررہی ہے۔