بلاری، 9 ؍ جنوری (ایس او نیوز) شہر کے تین الگ الگ مقامات پر آوارہ کتوں کے حملے میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں 4 کو وجیا نگر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے آئی سی یو میں داخل کرنے کی نوبت آگئی ۔ کتوں کے حملے شکار ہونے والے ان زخمیوں میں 7 بچے بھی شامل ہیں ۔ خیال رہے کہ ابھی دو مہینے پہلے ان آوارہ کتوں نے دو معصوم بچوں پر جان لیوا حملہ کیا تھا ۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جو آوارہ کتے لوگوں پر حملے کر رہے ہیں ان کے اندر 'ریبیس' کے آثار موجود ہیں ، مگر میونسپل کارپوریشن کے افسران نے کہا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔ وٹپّا گیرے علاقے کے وارڈ نمبر 30 میں حملے کا شکار ہونے والے منجوناتھ نائیک نے بتایا کہ "تین کتوں نے لوگوں پر اچانک حملہ کیا تھا جس میں سے ایک ریبیس سے متاثر لگ رہا تھا ۔ حال ہی میں ایک ریبیس سے متاثرہ آوارہ کتا علاقے میں دیکھا گیا تھا اور ہم نے میونسپال کارپوریشن کے افسران کو اس سے آگاہ کیا تھا مگر انہوں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی ۔ اب افسران کی تساہلی کا انجام ہم کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ "
"ہیومین ورلڈ فار اینیمل، بلاری" کی بانی نکیتا نے بتایا کہ "آوارہ کتوں کے کاٹنے کے معاملے بلاری میں بہت زیادہ عام ہوگئے ہیں ۔ گزشتہ چھ مہینے سے اینیمل برتھ کنٹرول اور اینٹی ریبیس ویکسین پروگرام پوری طرح بند ہوگئے ہیں ۔ آوارہ کتوں کی تعداد بڑھنے کی یہ بھی ایک وجہ ہے ۔ ریبیس سے متاثرہ کتوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے ۔"
بلاری سٹی میونسپل کارپوریشن کے کمشنر رودریش نے کتوں کے حملے میں زخمی ہونے والے افراد سے اسپتال میں ملاقات کرنے کے بعد بتایا " ہم نے بلاری شہر میں بڑھتی ہوئی آوارہ کتوں کی تعداد پر قابو پانے کے لئے 3.09 کروڑ روپے کی لاگت والا کتوں کی نس بندی (اسٹیریلائزیشن) پروگرام بنایا ہے جس کے تحت سالانہ 15 ہزار کتوں کی نس بندی کی جائے گی ۔"