نئی دہلی، 9؍فروری (ایس او نیوز؍ایجنسی ) پارلیمنٹ میں صدر جمہوریہ کے خطاب پر ہونے والی بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے مختلف موضوعات کا احاطہ کیا لیکن اس دوران وہ اس وقت ملک کے سب سے سلگتے ہوئے موضوع یعنی گوتم اڈانی کی کمپنیوں کے تعلق سے بالکل خاموش رہے بلکہ انہوں نے مہنگائی اور بے روزگاری کو ہی تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں راہل گاندھی پر ان کا نام لئے بغیر تنقیدیں کیں جبکہ اپوزیشن کو بھی ای ڈی اور سی بی آئی کا نام لے کر نشانہ بنایا۔
وزیر اعظم مودی نے ۸۴؍ منٹ کے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کی حکومت کے ذریعہ کئے گئے کاموں کی وجہ سے ملک کے وقار میں اضافہ ہوا ہے اور نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ہندوستان میں کئے گئے کاموں کی وجہ سے ہم وطنوں کا سر فخر سے بلند ہوا ہے۔ ان کی حکومت نے ملک اور دنیا کی ساکھ میں اضافہ کیا ہے، فیصلہ کن اقدامات کئے ہیں، عوامی مفاد میں فیصلے کئے ہیں اور تمام اصلاحاتی کام عوامی جذبات کے مطابق کئے ہیں اس لئے حکومت پر سب کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ ملک بحران کے درمیان بھی فخر سے بھرا ہوا ہے، ملک کے ۱۴۰؍کروڑ لوگوں کے سامنے جو چیلنجز تھے، وہ چیلنجز موجود نہیں ہیں۔ پوری دنیا کی سپلائی چین ٹوٹ گئی تھی لیکن ہم آگے بڑھتے رہے اور اس سے ملک کی ساکھ بڑھی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کورونا کے وقت دنیا بحران کا شکار تھی لیکن ہندوستان نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر اپنے لوگوں کو کورونا سے چھٹکارا دلایا اور ۱۵۰؍ سے زائد ممالک میں کورونا ویکسین پہنچا کر انسانیت کی خدمت کی۔ ان تمام حالات کو دیکھ کر دنیا امید بھری نظروں سے ہندوستان کی طرف دیکھتی ہے۔ آج ہندوستان جی ۲۰؍ ممالک کی صدارت کر رہا ہے جس کی وجہ سے اہل وطن فخر محسوس کر رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ نو سال کے دوران ملک میں نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے شعبہ میں، مینوفیکچرنگ کے شعبے میں۔ ہندوستان نوجوانوں کی طاقت کی پہچان بن گیا ہے۔ ہندوستان موبائل مینوفیکچرنگ کے میدان میں دنیا کا دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے، گھریلو ایئر لائن کے میدان میں دنیا کا تیسرا، توانائی کے استعمال کے معاملے میں دنیا کا تیسرا اور اسی طرح کئی معاملات میں ہم بہت آگے نکل چکے ہیں۔
وزیر اعظم مودی نے اپوزیشن کو بھی نشانہ بنایا اور کسی دوسری پارٹی کا نام لئے بغیر کہا کہ وہ مایوسی کے احساس سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور جب مایوسی اندر ہوتی ہے تو سب کچھ خراب نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ۱۰؍سال کے دوران ملک نے ترقی کی ایک نئی راہ لی ہےجسے اپوزیشن کے لوگ ہضم نہیں کر پارہے ہیں۔ ان لوگوں نے صرف گھپلے کئے ہیں ۔ وزیر اعظم نے۲۰۰۴ء سے ۲۰۱۴ء کے درمیانی عرصے کو گھپلوں کی دہائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان ۱۰؍ بر س میں کئی بڑے گھپلے ہوئے۔ بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ، لوگوں میں مایوسی پھیلی، کشمیر سے کنیا کماری تک دہشت گردی کا ماحول تھا، ہندوستان عالمی پلیٹ فارم پر اتنا کمزور ہو چکا تھا کہ دنیا ہماری بات سننے کو تیار نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ گھپلوں کی اس دہائی میں ٹیکنالوجی کی سطح پر گھپلے ہوئے ، جب دنیا آگے بڑھ رہی تھی ہندوستان ٹو جی گھوٹالے میں میں پھنسا ہوا تھا۔ کامن ویلتھ گیمزمیں بھی گھوٹالا ہوایعنی جب موقع ملا صرف گھپلے کئے گئے اسی لئے آج نئے ہندوستان کی ترقی اور اس کی رفتار دیکھ کر ان لوگوں کو مایوسی ہو رہی ہے