نئی دہلی 17 فروری (ایس او نیوز) آسام میں حال ہی میں کم عمری کی شادیوں کے روک تھام کے نام پرتین ہزار سے زائد لوگوں کی گرفتاریوں کا نوٹس لیتے ہوئے ایسوسی ایشن فورپروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے آسام کے چار اضلاع کا دورہ کیا اور حقائق جاننے کی کوشش کرتے ہوئے متاثرین کو قانونی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی۔ اس تعلق سے فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پیش کرتے ہوئے اے پی سی آر کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے الزام لگایا ہے کہ آسام پولس نے گرفتاریاں کرنے کے دوران سپریم کورٹ کے رہنما خطوط کی کھلی خلاف ورزی کی ہیں۔
ایڈوکیٹ تمنا پنکج ، ایڈوکیٹ مبشرعنیق، ایڈوکیٹ جنید خالد اور ایڈوکیٹ مسعود پر مشتمل فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے اور متاثرین سے تمام حالات کی آگاہی حاصل کرنے کے بعد جمعہ کو پریس کانفرنس کے ذریعے فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کی اور بتایا کہ آسام میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئی ہیں جن کو اُجاگر کرنا ضروری ہے۔
فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آسام حکومت نے جنوری 2023 میں 2019-2020 میں کئے گئے نیشنل ہیلتھ سروے-5 کے ڈیٹا کو قبول کرتے ہوئےآسام پولیس کو کم عمری کی شادی پر پابندی لگانے کا حکم دیا اور امتناعی ایکٹ 2006 اورجنسی جرائم سے بچوں کا تحفظ ایکٹ 2012 کے تحت شوہر، سسرال، دور کے رشتہ داروں یا قاضیوں/پادریوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دی۔ مگراس قانون کے نافذ ہوتے ہی پولس نے اُن لوگوں کوبھی گرفتارکرنا شروع کردیا جن کی شادی ہوکرآٹھ اور دس سال بیت چکے ہیں۔
فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے آسام کے گوہاٹی، دھوبری، بارپیٹا اور اجولی اضلاع میں متاثرہ خاندانوں کی شہادتیں ریکارڈ کیں ہیں اورانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے والے کلیدی نتائج سامنے لائے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 6 فروری تک آسام پولس نے 4000 ایف آئی آر درج کیں ہیں اورخواتین سمیت 3000 لوگوں کو گرفتارکیا ہے اور گرفتار شدگان کو گرفتاری کی جگہ سے 200 کلومیٹر دور ٹرانزٹ جیل بھیج دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرفتاری کا طریقہ ڈی کے باسو بمقابلہ ریاست مغربی بنگال (1977) میں طے شدہ سپریم کورٹ کے رہنما خطوط کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جن کی شادی کم سنی میں ہوئی تھی، پولیس نے جبراً ان کے گھروں میں گھس کر نابالغ لڑکیوں کے شوہر، سسرال اور رشتہ داروں کو گرفتارکیا ہے۔
میڈیا میں آئی ایک رپورٹ پر جس میں بتایا گیا تھا کہ چودہ سال کی لڑکی کی شادی ہوکر دس سال کا عرصہ بیت چکے تھے مگر اپنے ماں باپ کی گرفتاری کے خوف سے اس نے خودکشی کرلی، ایڈوکیٹ تمنا پنکج نے بتایا کہ قانون کے مطابق تین سال پہلے تک جن کی شادی کم عمری میں ہوئی ہے، اُنہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے، مگر آٹھ سال اور دس سال پہلے جن لڑکیوں کی شادی ہوئی تھی، اُن کے گھروالوں کو بھی گرفتار کیا جارہا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں میں ڈر اور خوف کا ماحول ہے یہی وجہ ہے کہ آسام میں خودکشیوں کے بہت سارے واقعات پیش آرہے ہیں۔
فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق حکومت نے آشا کارکنوں اور پنچایت سکریٹری یا گاؤں کے سکریٹری کے سربراہ کی مدد سے بچوں کی شادی میں ملوث ناموں کی فہرست تیارکی۔ آشا کارکنوں نے حاملہ خواتین کا ڈیٹا لیک کیا، جس کی وجہ سے ان کے شوہروں اور رشتہ داروں کو گرفتارکیا گیا۔ حاملہ خواتین ان کے ذریعے طبی سہولیات حاصل کرنے سے گریزاں ہیں کیونکہ انہوں نے خاندانوں کو بہت زیادہ پریشان اور ہراساں کیا ہے۔
رپورٹ میں مزید نشاندہی کی گئی ہے کہ آسام میں سول سوسائٹی کی تنظیموں کا فقدان اور مختلف نظریات کی تبدیلی، سیاسی گروہوں میں پھوٹ، قانونی امداد کی کمی اور ناقص قانونی بنیادی ڈھانچے نے حاشئے پر رہنے والے کمزورگروپ کو انصاف کی سیڑھی پر چڑھنے سے روک دیا ہے۔ایڈوکیٹ تمنا پنکج نے بتایا کہ آسام میں بہت سے معاملات میں شادیاں لڑکیوں کی مرضی سے کی گئی ہیں، کوئی زور زبردستی نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیف منسٹر کا بچپن کی شادی سے نمٹنے کا مقصد اس اقدام سے ناکام ہو گیا ہے کہ گرفتاریوں کے نتیجے میں کمزوروں اور اقلیتی برادریوں کے ذہنوں میں خوف پیدا ہوگیا ہے۔
سماجی کارکن صفورا زرگرنے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ کے مقصد کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے میٹنگ کو منظم کیا۔ایڈوکیٹ مبشر انیق نےآسام میں سول سوسائٹی کے مضبوط گروپوں کی ضرورت اور حالیہ معاملات میں عدلیہ کے کردار پر بات کی۔انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پرعدالت ایسی گرفتاریوں میں 24 گھنٹے کے اندر ضمانت دیتی تھی لیکن وہاں عدالتیں ضمانت دینے سے گریزکررہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آسام پولیس نے رات کے اوقات میں لوگوں کو گرفتار کیا اور ایف آئی آر کی نقل ملزمان کو دینے سے انکار کردیا۔ایڈوکیٹ مدھومہرا نےآسام میں پیش آئےحالیہ واقعات پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کم عمری میں ہوئی شادیوں کے لئے غربت کو ذمہ دار ٹہرایا۔ انہوں نے کہا کہ آسام میں لڑکیوں کی تعلیم چھوڑنے کی شرح بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے غریب خاندانوں کے لیے حالات بد سے بدتر ہو گئے ہیں یہی وجہ ہے کہ بچپن کی شادیاں بہت زیادہ ہو رہی ہیں۔
سینٹرفوردی اسٹڈی آف ویمن ڈیولپمنٹ کے ڈائرکٹرمیری ای جان نے بتایا کہ آسام میں مسلمان سب سے غریب طبقہ ہیں اور اسی وجہ سے ان میں بچپن کی شادیاں عام ہیں۔ انہوں نے حکومت کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر بچیوں کو مواقع فراہم کرنے پر زور دیا۔