ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / انکولہ : 6 سال پرانا دوہرا قتل معاملہ - ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے رکھا گیا لاش کا سر اور ہاتھ کا پنجہ غائب - عدالت کے حکم پر پولیس تلاشی مہم میں سرگرم

انکولہ : 6 سال پرانا دوہرا قتل معاملہ - ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے رکھا گیا لاش کا سر اور ہاتھ کا پنجہ غائب - عدالت کے حکم پر پولیس تلاشی مہم میں سرگرم

Sat, 11 Feb 2023 11:48:15    S.O. News Service

انکولہ، 11 / فروری (ایس او نیوز) چھ سال قبل ہوئے دوہرے قتل معاملہ کی تحقیقات کے دوران ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے لاش کے جسم سے الگ کرکے رکھا گیا سر اور ہاتھ کا پنجہ غائب ہوجانے سے پولیس والے سخت مشکل میں گھر گئے ہیں کیونکہ عدالت نے ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔ 
    
یاد رہے کہ 6 سال قبل کاروار کاجو باغ کے رہنے والے ایاز شیخ اور جھارکنڈ کے رہنے والے آشیش رنجن کا قتل ہوا تھا ۔ آشیش رنجن کی لاش چھوٹے موٹے زخموں کے ساتھ ملی تھی اور اس کا کوئی وارث نہ ہونے کی وجہ سے اس کو پولیس نے شہر کے شمشان میں دفن کیا تھا ۔ 
    
آشیش رنجن کی لاش ملنے کے ایک ہفتے کے اندر ہی یلاپور کے اریبیل گھاٹ پر ایک اور لاش ملی تھی  اور اس کی شناخت نہ ہونے کی وجہ سے یہ لاش یلاپور کے شمشان میں دفن کی گئی تھی ۔ پھر تقریباً پندرہ دن بعد اس لاش کی شناخت گھر والوں کی مدد سے کاروار کے رہنے والے ایاز شیخ کے طور پر کی گئی ۔ اس کے بعد اس لاش کو یلاپور شمشان سے نکال کر اسے کاروار کاجو باغ  کےقبرستان میں مذہبی رسومات کے ساتھ دفن کیا گیا ۔
    
ایک اہم بات یہ ہوئی تھی کہ جب ایاز کی لاش شمشان سے نکالی گئی تو اس کا سر اور ہاتھ کا پنجہ موجود نہیں تھا ۔ پولیس والوں نے ایاز کے گھر والوں کو سمجھایا کہ لاش کا ڈی این اے ٹیسٹ کرنے کے لئے سر اور ہاتھ جدا کرکے محفوظ رکھے گئے ہیں اور بقیہ جسم دفن کیا گیا تھا ۔ اس بات کو مانتے ہوئے ایاز کے گھر والوں نے سر اور ہاتھ کے پنجے کے بغیر ہی وہ لاش دفن قبرستان میں دفنائی تھی ۔ 
    
اس دوہرے قتل کی تحقیقات کے دوران پولیس نے بیلگاوی کے اشفاق خطیب، عرفان مومن اور شاہد خطیب نامی ملزمین کو گرفتار کیا تھا جو کہ اب ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں ۔ اب جبکہ عدالت میں اس دوہرے قتل کا معاملہ سماعت کے آخری مراحل میں ہے تو جج نے پولیس کو لاش کی ڈی این اے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ۔ 
    
عدالت کا حکم سن کر پولیس کے ہوش اڑ گئے کیونکہ چھ سال قبل لاش کے پوسٹ مارٹم کے وقت ڈی این اے کے لئے جو سر اور ہاتھ جدا کرکے  کاروار کے میڈیکل کالج میں رکھا گیا تھا وہ اب دستیاب نہیں ہے اور واردات کے وقت جن پولیس افسران نے اس معاملہ کی تحقیقات کی تھی وہ سب اب ٹرانسفر ہوکر دوسرے مقامات پر چلے ہیں ۔ اب حالت یہ ہے کہ لاش کا سر اور ہاتھ  کہاں ہے اس کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں ہے ۔ قبروں کو دوبارہ کھود کر لاشوں کی جانچ کرنے والے پولیس افسران اب حیران ہوگئے ہیں ۔ 
    
عدالت کے حکم پر پولیس افسران نے کاروار کے قبرستان میں ایاز کی قبر کھود کر وہاں سے ہڈیاں اور لاش کے باقیات نکال لیے مگر انکولہ کے شمشان میں آشیش رنجن کی لاش کس جگہ دفن کی گئی تھی اس کی نشاندہی نہ ہونے کی وجہ سے پولیس والے پریشان ہو کر خالی لوٹنے پر مجبور ہوگئے ۔ 
    
دوسری طرف یہ مسئلہ بڑا اہم ہوگیا ہے کہ ڈی این اے کے لئے الگ کیا گیا سر اور ہاتھ کہاں چلا گیا یا اسے کس نے غائب کر دیا ۔ اگر ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے سیمپل بھیجا گیا تھا تو پھر اس کی رپورٹ 6 سال تک کیوں موصول نہیں ہوئی ۔ اس معاملہ کو سامنے رکھتے ہوئے  ایاز کے بھائی امتیاز شیخ بڑے دکھ کے ساتھ یہ کہتے دکھائی دئے کہ اُس وقت تحقیقات کرنے والی پولیس ٹیم نے اس دوہرے قتل کے اصل معاملہ کو بدل کے رکھ دیا ہے ۔ 


Share: