ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / افغان مہاجرین کی واپسی، کابل حکومت بھی فعال

افغان مہاجرین کی واپسی، کابل حکومت بھی فعال

Fri, 22 Jul 2016 18:00:30    S.O. News Service

کابل 22جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)دودہائیوں میں پہلی مرتبہ افغان حکومت نے باقاعدہ طور پر پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے مہم کاآغازکیا ہے۔افغان حکومت نے سیاستدانوں اور سفارتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی میں اپنا کردار ادا کریں۔ افغان حکومت نے اس مہم کو خپل وطن گل وطن کا نام دیا ہے۔پاکستان، افغانستان اور یو این ایچ سی آر کے نمائندگان نے پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے عمل کو بہتر بنانے اور افغانستان میں ان کے لیے بہتر مواقع پیدا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔پشاور میں تعینات افغان قونصل جنرل عبداللہ وحید پویان نے سوشل میڈیا پر اپنے ہم وطنوں کے نام ایک ویڈیو پیغام میں انہیں افغانستان واپس جانے اور اپنے ملک کی بحالی اورتعمیرنومیں اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔پویان کا کہنا ہے، اپنے وطن واپس جاکر بحالی اور تعمیر نو میں اپنا حصہ ڈال کرمشکلات سے بچیں۔ انہوں نے پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں پر زور دیا کہ وہ خپل وطن گل وطن نامی اس مہم کوکامیاب بنائیں۔پویان نے کہاکہ افغانستان کو آپ لوگوں کی ضرورت ہے۔ یہاں کی مشکلات سے نجات پائیں اور اپنے وطن واپس جاکر عزت سے زندگی گزاریں۔ اس افغان سفارتکار کا اپنے لوگوں کے نام پیغام میں مزید کہنا ہے کہ مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کی جانب سے فراہم کردہ امدادی رقم انتہائی کم ہے لیکن افغان حکومت اس میں اضافے کے لیے کوشاں ہے تاکہ واپس جانے والے افغان اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں۔اقوام متحدہ کے مہاجرین کے ادارے کی جانب سے پشاور میں رضاکارانہ طور پر مہاجرین کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔ حکام کے مطابق واپسی کے لیے امدادی پیکج میں اضافے کے باوجود افغان مہاجرین کی واپسی میں دلچسپی نہ ہونے کے برابرہے۔جب اس سلسلے میں یو این ایچ سی ار کے آفیسر حمید خان سے بات کی گئی توان کا کہنا تھا، گزشتہ ساڑھے چھ ماہ کے دوران پورے ملک سے بارہ سو کے قریب افغان خاندان واپس گئے ہیں۔ رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو فی کس چار سو ڈالر دیے جاتے ہیں جبکہ ضروری اشیا بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ ان لوگوں کا ڈیٹا اسلام آباد اور کوئٹہ بھیج دیا جاتا ہے، جہاں اسے سسٹم سے نکال دیا جاتا ہے۔ یوں اگر یہ مہاجرین واپس دوبارہ پاکستان بھی آنے کی کوشش کریں گے تو غیرقانی افغان مہاجرین یو این ایچ سی آر کی سہولیات سے استعفادہ نہیں کرسکیں گے۔افغان مہاجرین کی سب سے زیادہ تعداد خیبر پختونخوا اور ملحقہ قبائلی علاقوں میں رہائش پذیر ہے۔ تین دہائیاں گزر جانے کے بعد اب ان علاقوں کے عوام بھی افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے باقاعدہ احتجاج پر اتر ائے ہیں۔خیبر ایجنسی اور مومند ایجنسی سمیت بعض علاقوں میں مہاجرین کو علاقہ چھوڑنے کی ڈیڈ لائن دی جاچکی ہے جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا بھر میں صوبائی حکومت نے غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف کاروائی شروع کر دی ہے۔پشاور پولیس کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آپریشن عباس مجید مروت نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، صرف ضلع پشاور میں ساڑھے چھ ماہ کے دوران آٹھ ہزار تین سو غیر قانونی افغان باشندوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے بعض سنگین جرائم میں ملوث ہیں جبکہ غیر قانونی افغانوں کو جیل بھیج دیا جاتا ہے، جہاں سے انہیں قانون کے مطابق ملک بدر کیا جاتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے پولیس کو واضح ہدایت کی گئی ہے کہ سفری دستاویزات رکھنے والوں کو تنگ نہ کیا جائے۔پولیس جہاں پاکستان میں مقیم غیرقانونی افغان مہاجرین کے خلاف کاروائی کررہی ہے، وہیں غیرقانونی طور پر پاکستانی قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کا اغاز کر دیا گیا ہے۔حکومت نے جعلی دستاویزات بنانے والے افغان باشندوں کی نشاندہی کرنے والوں کے لیے انعام دینے کا اعلان بھی کیا ہے، جس کی وجہ سے نشاندہی کا عمل تیز ہوگیا ہے۔ پشاور پولیس کے مطابق اب تک گیارہ مشتبہ لوگوں کو جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنانے پر گرفتار کیا گیا ہے۔مقامی اہلکاروں کی ملی بھگت سے ہزاروں کی تعداد میں افغان مہاجرین پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوا چکے ہیں۔ افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد جہاں سرکاری محکموں میں ملازمت کرتی ہے وہیں یہ افغان مہاجرین پاکستانی دستاویزات پر بیرون ملک بھی کام کر رہے ہیں۔
 


Share: