صحافت پر غیر اعلانیہ پابندیاں، پی ایف یو جے کے احتجاجی مظاہرے

Source: S.O. News Service | By Staff Correspondent | Published on 10th October 2018, 8:41 PM | عالمی خبریں |

اسلام آباد10اکتوبر ( آئی این ایس انڈیا ؍ایس او نیوز) پاکستان میں ’صحافت پر سینسر شپ، غیراعلانیہ برطرفیوں اور اشتہارات کی بندش‘ کے خلاف پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی اپیل پر ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ان مظاہروں میں شریک صحافیوں کا کہنا تھا کہ ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا، بلکہ ماضی میں بھی صحافیوں پر ایسی ہی پابندیاں لگانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن ہر بار ایسا کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔اسلام آباد میں پی ایف یو جے کے زیر اہتمام ایک بڑی ریلی نیشنل پریس کلب اسلام آباد سے شروع ہوئی اور ایکسپریس چوک پہنچی، ریلی میں راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ اور دیگر جماعتوں کے صحافیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے اپنی گفتگو میں کہا کہ اس وقت اخبارات پر غیر اعلانیہ سینسر شپ کی جا رہی ہے، جبکہ اشتہارات نہ ہونے کی وجہ سے کئی اداروں سے ملازمین کو فارغ کیے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔نیشنل پریس کلب کے جنرل سیکرٹری شکیل انجم نے کہا کہ ’’اس وقت میڈیا انڈسٹری شدید مشکلات کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سینسر شپ کا ہر ادارے کو سامنا ہے۔صحافی عابد عباسی کا کہنا تھا کہ نئی حکومت جو رویہ اختیار کر رہی ہے اس کی وجہ سے صحافیوں کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اخبارات اور ٹی وی پر سیلف سینسر شپ کی وجہ نادیدہ ہاتھ ہے جس کی وجہ سے تمام میڈیا دباؤ کا شکار ہے۔خیبرپختونخوا کے دارلحکومت پشاور میں پریس کلب کے سامنے صحافیوں، سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بے جا سنسر شپ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے اظہار رائے پر پابندی، میڈیا مالکان کی طرف سے صحافیوں کو نوکریوں سے بے دخل کرنے اور صحافیوں کی سیفٹی اور سیکیورٹی کے حوالے سے تربیت نہ ہونے پر اظہار افسوس کیا۔ صحافیوں کا احتجاج اگرچہ جاری ہے، لیکن حکومت موجودہ صورتحال پر بالکل خاموش نظر آرہی ہے۔ چند روز قبل ایک نیوز کانفرنس کے دوران تنخواہ نہ دینے والے چینل کا مائیک وزیر اطلاعات کے سامنے سے اٹھا دیا گیا تو اس وقت بھی ان کا کہنا تھا کہ ہم صحافیوں کے ساتھ ہیں۔ لیکن، اس ادارے سے تنخواہوں کی ادائیگی میں مدد کے سوال پر وزیر اطلاعات خاموش رہے ۔

ایک نظر اس پر بھی

انیس عامری ایک ’دہشت گرد سیل‘ کا حصہ تھا: جرمن میڈیا

برلن میں دو برس قبل ایک کرسمس مارکیٹ پر ٹرک کے ذریعے حملہ کرنے والا انیس عامری’تنہا بھیڑیا‘ نہیں تھا بلکہ ممکنہ طور پر اس کا تعلق ایک سلفی سیل سے تھا، جس نے اسے اس حملے میں مدد دی تھی۔جرمن میڈیا پر ہفتے کے روز سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق برلن کرسمس مارکیٹ حملے کے فقط دو ...

فرانسیسی شہروں میں زرد جیکٹوں والے مظاہرین کا احتجاج

فرانس کے مختلف شہروں میں زرد جیکٹوں والے حکومت مخالف مظاہرین مسلسل پانچویں ویک اینڈ پر احتجاج کے لیے جمع ہیں۔ صدر ایمانوئل ماکروں کی حکومت کے خلاف مظاہروں کا یہ سلسلہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر شروع ہوا تھا۔ فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں مظاہرین کی پرتشدد کارروائیوں کو ...

سری لنکا کے برخاست وزیراعظم پر پارلیمان کا اعتماد

رواں برس اکتوبر میں برخاست کیے جانے والے سری لنکن وزیراعظم رانیل وکرمے سنگھے نے پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا ہے۔ آج بدھ کو ہونے والی رائے شماری میں 225 رکنی ایوان میں وکرمے سنگھے کی حمایت میں 117 اراکین نے ووٹ ڈالا

امریکی فوج نے شمالی شام میں مبصر چوکیاں قائم کر دیں

امریکی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اْس کی افواج نے شمالی شام میں مبصر چوکیاں قائم کر دیں ہیں۔ اس اعلان میں ان چوکیوں کی تعداد اور مقامات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ اسی علاقے میں شامی کردوں کی ملیشیا وائی پی جی ایک بڑے علاقے پر قابض ہے

برطانوی وزیر اعظم کو درپیش قیادت کا چیلنج: کیوں اور کیسے؟

برطانوی پارلیمان کے ارکان نے قدامت پسند وزیر اعظم ٹریزا مے کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی ہے، جس پر رائے شماری آج بدھ بارہ دسمبر کو ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ تحریک پیش کیے جانے کے بعد اب ہو گا کیا ۔برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے اسی ہفتے پیر کا دن یورپ کے مختلف ممالک کے ...