ویتنام کے ساتھ دو طرفہ تجارت سود مند ہوگی: ٹرمپ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th November 2017, 12:03 PM | عالمی خبریں |

واشنگٹن 12نومبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ویتنام کے ساتھ دو طرفہ تجارت کے خواہاں ہیں جو کہ دونوں ملکوں کے لیے سودمند ہو گی۔اتوار کو ہنوئی میں ویتنام کے صدر ٹران ڈئی کوانگ سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے کہا کہ "تجارت کو کامیاب بنانے کے لیے تمام ممالک کو قواعد میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔ میرے لیے یہ حوصلہ افزا بات ہے کہ ویتنام حالیہ برسوں میں امریکہ کے لیے تیزی بڑھتی ہوئی برآمدی منڈی بنا ہے۔"انھوں نے اپنے ویتنامی ہم منصب کو اپنے ہاں اقتصادی اصلاحات، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں پر سراہا۔امریکی صدر نے مزید بتایا کہ "ہم نے ابھی ویتنام میں امریکی مصنوعات کے بارے میں زبردست تبادلہ خیال کیا۔ میں پراعتماد ہوں کہ امریکی توانائی، زراعت، مالی شعبہ، ہوابازی اور دفاعی مصنوعات آپ کی بہت سی ضروریات کو پورا کرنے کے قابل ہیں۔ نہ صرف قابل بلکہ یہ کسی سے بھی بہتر ہیں۔"مترجم کی مدد سے بات کرتے ہوئے کوانگ سے ٹرمپ سے اپنی ملاقات کو سودمند قرار دیا اور کہا کہ " صدر کا ویتنام کا یہ دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک سنگ میل ہے۔"دونوں راہنماؤں نے شمالی کوریا اور جنوبی بحیرہ چین سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا۔ٹرمپ نے شمالی کوریا کے لیے اپنے انتباہ کو دہراتے ہوئے کہا کہ یہ ملک خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔"جیسا کہ میں نے جمہوریہ کوریا کی قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا تھا کہ تمام ذمہ دار ریاستیں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کریں کہ شمالی کوریا کی باغی ریاست کو دنیا کو ناقابل فہم جانی نقصانات کی دھمکیاں دینے سے روکا جائے۔۔۔ہم استحکام چاہتے ہیں نہ کہ افراتفری اور ہم امن چاہتے ہیں نہ کہ جنگ۔"اس سے قبل اتوار کو ہی ٹرمپ نے شمالی کوریا کے راہنما کم جونگ اْن کی طرف سے ان پر کی گئی تنقید کا جواب بھی دیا۔کم نے انھیں ایک ایسا بوڑھا کہا تھا جو اپنی ذہنی صلاحیت کھو رہا ہوتا ہے۔ٹوئٹر پر ٹرمپ نے کہا کہ "کم مجھے بوڑھا کہہ کر کیوں برا بھلا کہیں گے جب کہ میں نے انھیں کبھی چھوٹا اور موٹا نہیں کہا۔ میں نے ان سے دوستی کی بہت کوشش کی اور شاید کسی دن ایسا ہو بھی جائے۔"پریس کانفرنس میں جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ دونوں دوست بن جائیں تو صدر کا کہنا تھا کہ "میرا خیال ہے کہ کچھ بھی ممکن ہے۔ زندگی میں بہت سے حیران کن چیزیں ہوتی ہیں۔"

ایک نظر اس پر بھی

بھارت۔ تائیوان ایس ایم ای ترقیاتی فورم تائیپی میں شروع 

vایم ایس ایم ای کے سکریٹری ڈاکٹر ارون کمار پانڈا 13 سے 17 نومبر 2018 تک چلنے والے بھارت 150 تائیوان ایس ایم ای ترقیاتی فورم کے اجلاس میں بھارتی وفد کی قیادت کررہے ہیں۔ فورم میں کل اپنے افتتاحی کلمات میں ڈاکٹر پانڈا نے کہا کہ بھارت میں ایم ایس ایم ای کی پوزیشن کلیدی اہمیت کی حامل ہے

شمالی کوریا کا میزائل پروگرام جاری ہے، رپورٹ

ایک امریکی ریسرچ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ اس نے شمالی کوریا کے میزائلوں سے متعلق ایسے 13 مقامات کا پتا لگایا ہے جن کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کی تازہ ترین علامت ہے کہ شمالی کوریا کو اس کے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار کرانے کی امریکی کوشش تعطل کا شکار ہو گئی ہے۔

غیر ملکی طلبہ کی امریکہ میں دلچسپی کیوں گھٹ رہی ہے؟

غیر ملکی طالب علموں کی آمد سے امریکی معیشت کو ہر سال42 ارب ڈالر کا فائدہ ہوتا ہے اور روزگار کی منڈی میں ساڑھے چار لاکھ ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں۔ غیر ملکی طالب علم امریکی معیشت کے لئے بے بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔

ہندوستان ڈیجیٹل فروغ اورترقی کے دورسے گذررہاہے ، سنگاپورمیں جاری فنٹیک فیسٹول میں وزیراعظم کاخطاب

وزیراعظم نے سنگاپورمیں جاری فنٹیک فیسٹول میں خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ ہندوستان پر چھاجانے والے مالیاتی انقلاب اور ہندوستان کے 1.3 ارب عوام کی زندگی میں بہتر تبدیلیوں کا اعتراف ہے۔ہندوستان اور سنگاپور ہندوستانی اور آسیان ملکوں کے چھوٹے اور اوسط درجے کے کاروباری اداروں کوایک ...

سنگاپور کے وزیراعظم لی سین لونگ سے وزیراعظم نریندر مودی کی ملاقات

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو سنگاپور کے وزیراعظم لی سین لونگ سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے مالیاتی ٹیکنالوجی میں تال میل اور علاقائی اقتصادی اتحاد سمیت کئی مسائل پر بات چیت کی۔ مودی نے فنٹیس فیسٹیول سے خطاب کر کے بدھ کو دو روزہ سنگاپوردورہ کا آغاز کیا ۔یہ فیسٹیول مالیاتی ...