ٹرمپ انسانی حقوق اور بیلسٹک پروگرام کے ذریعے ایران کا بازو مروڑیں گے

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th January 2018, 9:54 PM | عالمی خبریں |

 

واشنگٹن، 12؍جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)توقع ہے کہ امریکی صدر جوہری معاہدے کے حوالے سے خفگی کے باوجود معاہدے کے تحت تہران پر سے اٹھائی جانے والی پابندیاں دوبارہ عائد نہیں کریں گے۔ تاہم اْن کا حتمی فیصلہ جمعے کے روز سامنے آئے گا جو کانگریس کی جانب سے عائد کردہ معاہدے کی دوبارہ سے توثیق کی تاریخ ہے۔ البتہ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ٹرمپ کے سامنے دیگر اختیارات نہیں۔ اس حوالے سے ممکنہ منظرنامے یہاں ذکر کیے جا رہے ہیں۔

بہت سے ماہرین یہ توقع کر رہے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ آئندہ عرصے کے دوران نئی پابندیوں کا ایک مجموعہ عائد کرے گی۔ اس کے لیے ایران کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بیلسٹک میزائلوں سے متعلق تجربات، مشرق وسطی میں ایرانی مداخلت اور دیگر سائبر خلاف ورزیوں کو ذریعہ بنایا جائے گا۔اس سلسلے میں واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار مڈل ایسٹ اسٹڈیز کے محقق جے سولیمن کا کہنا ہے کہ ان میں بہت سی پابندیوں میں ایسے افراد اور اداروں کو نشانہ بنایا جائے گا جن پر جوہری پابندیاں لاگو نہیں ہوئیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ یہ ہے کہ آئندہ پابندیوں کی لپیٹ میں آنے والے بعض ادارے وہ ہو سکتے ہیں جن پر سے جوہری پروگرام سے متعلق پابندیاں اٹھائی گئیں۔ایسے میں جب کہ امریکی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ قبل ازیں جن اداروں پر سے پابندیاں اٹھائی گئی تھیں اْن پر اب مختلف پابندیاں عائد کرنا درست ہے۔ تاہم یورپی یونین اور ایران کا بھی یہ کہنا ہے کہ معاہدے کے مطابق ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

ادھر فاؤنڈیشن فار ڈیفنس ڈیموکرسیز کے ایک محقق کے مطابق جوہری معاہدے نے بعض کمپنیوں کو پابندیوں کی فہرست سے خارج کر دیا جس کے نتیجے میں یورپی اور ایشیائی باشندوں کو ایران کے ساتھ لین دین کی اجازت مل گئی جب کہ امریکیوں کو ابھی تک اس کی ممانعت ہے۔ محقق کا مزید کہنا ہے کہ "امریکا نے 2013 میں ایرانی نیوز ایجسنی پر پابندیاں عائد کی تھیں اور پھر جوہری معاہدے سے قبل طے پانے والے عارضی سمجھوتا طے ہونے پر ان پابندیوں کو اٹھا لیا۔ ٹرمپ انتظامیہ ان پابندیوں کو دوبارہ عائد کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایسے اداروں کو ہدف بنایا جا سکتا ہے جن کو اس سے قبل پابندیوں کی فہرست سے خارج کر دیا گیا تھا۔ اگرچہ ان اداروں کا ایران کے جوہری پروگرام سے کوئی تعلق نہیں تاہم اس طریقے سے تہران پر دباؤ میں اضافہ کیا جائیگا۔

ایک دوسرا منظرنامہ یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ جوہری پروگرام سے متعلق سخت ترین پابندیوں کو دوبارہ عائد کر دے جو ایران کے مرکزی بینک اور ایران کی تیل کی فروخت کو بھی لپیٹ میں لے لیں گی۔ تاہم اس منظرنامے کا امکان نسبتا کم ہے اس لیے کہ یہ امریکا کی جانب سے جوہری معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہو گی۔محقق جے سولیمن کے مطابق یورپی ممالک ایرانی نظام کے محافظ بن گئے ہیں اور مظاہروں کے حوالے سے جوابی کارروئی پر تہران کو تنقید کا نشانہ بھی نہیں بنا رہے ہیں۔ اس لیے کہ انہیں اندیشہ ہے کہ کہیں امریکا اس بین الاقوامی اتفاق رائے کو جوہری معاہدہ منسوخ کرنے کا ذریعہ نہ بنا لے۔

جہاں تک کانگریس کا تعلق ہے تو وہ ایسے قانون کی تیاری کر رہی ہے جس سے جوہری معاہدہ مضبوط ہو سکے۔ اس واسطے
معاہدے کی تاریخ تنسیخ کو ختم کرنے اور معاہدے میں ترامیم کی کوشش کی جائے گی جو ایران کو بیلسٹک میزائل پروگرام کو آگے بڑھانے سے روک دے۔ اس کے علاوہ ایسے بعض تقاضوں کو بھی ختم کرنا جو معاہدے کے مستقل طور پر جاری رہنے کی توثیق سے متعلق ہیں۔ اس طرح ہر نوّے روز کے بعد امریکی انتظامیہ کی جانب سے جوہری معاہدے پر کاربند رہنے کے ارادے کے حوالے سے سوالات جنم لیں گے۔

ایک نظر اس پر بھی

2014 کے لوک سبھا انتخابات میں تمام ای وی ایم ہیک کئے گئے تھے: امریکن سائبر ایکسپرٹ کا دعویٰ؛ کیا ای وی ایم نے بی جے پی کو اقتدار دلایا ؟

 امریکہ میں مقیم ایک سائبر ماہر سید شجاع نے دعویٰ کیا ہے کہ   ہندستان میں    سال 2014میں ہوئےعام انتخابات میں استعمال کی گئی  الیکٹرونک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کو  ہیک کیا گیا تھا۔ 543 سیٹوں والے اس الیکشن میں بی جے پی کو282 سیٹوں پر شاندار کامیابی حاصل ہوئی تھی اور سن 1984 کے بعد پہلی ...

بنگلہ دیش انتخابات میں شیخ حسینہ کامیاب، اپوزیشن نے نتائج ماننے سے کیا انکار

خبر رساں اداروں کے مطابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکمران جماعت عوامی لیگ نے اتوار 30 دسمبر کو ہونے والے عام انتخابات میں اپوزیشن کے مقابلے میں بڑی برتری حاصل کر لی ہے اور حتمی نتائج میں عوامی لیگ کو کل 350 نشستوں میں سے 281 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

ایرانی حکومت ٹوئٹراستعمال کر رہی ہے مگر عوام کے لیے ممنوع ہے : امریکی سفیر

جرمنی میں امریکی سفیر رچرڈ گرینل کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت خود ٹویٹر کا استعمال کر رہی ہے مگر عوام کے لیے اس کا استعمال روکا ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بات ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی سے منسوب ٹویٹر اکاؤنٹ کھولے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی۔اگرچہ ایرانی میڈیا نے مذکورہ ...