ٹیپو سلطان جینتی: بی جے پی کی دھمکی کے بعد کرناٹک کے کئی شہروں میں دفعہ 144 نافذ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th November 2018, 12:44 PM | ریاستی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بنگلورو،10؍نومبر (ایس او نیوز؍ایجنسی ) کرناٹک میں ٹیپو سلطان کی جینتی منانے کو لے کر ہنگامہ جاری ہے۔ کرناٹک حکومت 2016 سے  ٹیپو سلطان کی جینتی منا رہی ہے۔ جبکہ بی جے پی نے اس پروگرام کو روکنے کی دھمکی دی ہے، جس کے بعد ہبلی، دھارواڑ اور شموگا سمیت کرناٹک کے کئی شہروں میں دفعہ 144 نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس بار جینتی پر کئی پروگرام منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی ٹیپو جینتی پر سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔

دفعہ 144 نافذ ہونے سے ایک دن پہلے بی جے پی نے جے ڈی ایس اور کانگریس حکومت سے جشن نہ منانے کی اپیل کی تھی۔ ساتھ ہی بنگلورو، میسور اور کوڈاگو سمیت متعدد مقامات پر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا تھا۔ 10 اور 11 نومبر کو صبح چھ بجے اور سات بجے سے ان دونوں شہروں میں کرفیو لگا دیا جائے گا۔ اس دوران ایک ہی جگہ پر چار سے زیادہ لوگ اکھٹا نہیں ہو سکتے۔

اس معاملہ پر اتحادی حکومت کے وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی نے کہا کہ پچھلی کانگریس حکومت کی پالیسی کو جاری رکھنے کے لئے 10 نومبر کو ٹیپو سلطان کی جینتی منائی جائے گی۔ ان کے اس بیان کے بعد بی جے پی نے پروگرام کی مخالفت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، ابھی یہ طے نہیں ہے کہ کمارسوامی اہم تقریب میں شرکت کریں گے یا نہیں یا سوامی کون سے پروگرام کا افتتاح کریں گے۔

حالانکہ ڈاکٹروں کے مشورہ کی بنیاد پر وزیر اعلی دفتر سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی سرکاری تقریب میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔ گوڑا کنبہ کے ذرائع نے نیوز 18 کو بتایا کہ ان کا کنبہ ٹیپو سلطان کی جینتی منانے کو اپنی بدقسمتی سے تعبیر کرتا ہے۔ کیونکہ کئی لوگ ٹیپو سلطان کو "آمر حکمراں" مانتے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار بوٹ حادثہ: زندہ بچنے والوں نے کیا حیرت انگیز انکشاف قریب سے گذرنے والی بوٹوں سے لوگ فوٹوز کھینچتے رہے، مدد نہیں کی؛ حادثے کی وجوہات پر ایک نظر

کاروار ساحل سمندر میں پانچ کیلو میٹر کی دوری پر واقع جزیرہ کورم گڑھ پر سالانہ ہندو مذہبی تہوار منانے کے لئے زائرین کو لے جانے والی ایک کشتی ڈوبنے کا جو حادثہ پیش آیا ہے اس کے تعلق سے کچھ حقائق اور کچھ متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں۔ سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ کشتی جب  اُلٹ ...

گرفتاری کے خوف سے رکن اسمبلی جے این گنیش روپوش

بڈدی کے ایگل ٹن ریسارٹ میں ہوسپیٹ کے رکن اسمبلی آنند سنگھ پر حملہ کرنے والے رکن اسمبلی جے این ۔ گنیش کے خلاف بڑدی پولیس تھانہ میں ایف آئی آر داخل کرنے کی خبر کے بعد سے گنیش لاپتہ ہیں ۔

وسویشوریا یونیورسٹی رجسٹرار پر200کروڑ کے گھپلے کا الزام گورنر نے چھان بین کے لئے وظیفہ یاب جج کو مقرر کیا ۔ تعاون کرنے ملزم کو ہدایت

وسویشوریا ٹکنالوجیکل یونیورسٹی (وی ٹی یو) کے رجسٹرار اب مشکل میں پڑگئے ہیں۔ گورنر واجو بھائی روڈا بھائی والا نے جو یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں،200کروڑ روپئے تک کے گھوٹالے کی چھان بین کا حکم دیا ہے۔

لنگایت طبقہ کے مذہبی رہنما شیوکمارسوامی کی آخری رسومات ادا، اسلامی تعلیمات اوراردو زبان سے بھی تھی واقفیت

یاست کرناٹک کی ایک عظیم شخصیت، لنگا یت طبقہ کے مذہبی رہنما، شیوکمارسوامی جی کی آج آخری رسومات انجام دی گئیں۔ بنگلورو کے قریب واقع ٹمکورشہرمیں شیوکمارسوامی جی کولنگایت رسومات کے مطابق دفنایا گیا۔ سدگنگا مٹھ میں آج اورکل لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے سوامی جی کا آخری ...

ملک کو ایک باضابطہ دانشمندانہ انتخابی نظام کی ضرورت ہے آئین جمہوریت کی حفاظتی حصار ہے۔ اقلیت واکثریت کے توازن کو برقرار رکھنے پر حامد انصاری کازور

سابق نائب صدر جمہوریہ ہند حامدانصاری نے کہا کہ ملک کو ایک باضابطہ سمجھدار انتخابی نظام کی ضرورت ہے ، شفاف انتخابی ماڈیول کو فروغ کی سمت بھی کوشش ہونی چاہئے ۔

پُتور میں پیک آپ کار کی اومنی سے خطرناک ٹکر؛ ایک کی موت، دو شدید زخمی

ماروتی اومنی اور  پیک آپ کے درمیان ہوئی خطرناک ٹکر کے  نتیجے میں اومنی پر سوار ایک شخص کی موت واقع ہوگئی، جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا، حادثے میں پیک آپ کار ڈرائیور کو بھی چوٹیں آئی ہیں ۔ حادثہ منگل صبح مُکوے مسجد کے سامنے   پیش آیا۔

شیرور میں کار کی ٹکر سے بائک سوار کی موت

پڑوسی علاقہ شیرور نیشنل ہائی وے پر ایک کار کی ٹکر میں بائک سوار کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی جس کی شناخت محمد راشد ابن محمد مشتاق (21) کی حیثیت سے کی گئی ہے جو شیرور  بخاری کالونی کا رہنے والا تھا۔

ہائی کمان کہے تو وزارت چھوڑ نے کیلئے بھی تیار : ڈی کے شیو کمار

ریاست میں سیاسی گہما گہمی کا فی تیز ہونے لگی ہے ۔ ایک طرف جہاں کانگریس اور جنتادل( سکیولر) اپنی مخلوط حکومت کو بچانے میں لگے ہیں وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) نے آپریشن کنول کے ذریعہ دیگر پارٹیوں کے اراکین اسمبلی کو خریدکر برسر اقتدار آنے کے حربے جاری رکھے ہیں۔