لنگایت طبقہ کے مذہبی رہنما شیوکمارسوامی کی آخری رسومات ادا، اسلامی تعلیمات اوراردو زبان سے بھی تھی واقفیت

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 23rd January 2019, 11:58 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو، 23؍جنوری (ایس او نیوز) ریاست کرناٹک کی ایک عظیم شخصیت، لنگا یت طبقہ کے مذہبی رہنما، شیوکمارسوامی جی کی آج آخری رسومات انجام دی گئیں۔ بنگلورو کے قریب واقع ٹمکورشہرمیں شیوکمارسوامی جی کولنگایت رسومات کے مطابق دفنایا گیا۔ سدگنگا مٹھ میں آج اورکل لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے سوامی جی کا آخری دیدارکیا۔

وزیراعلی ایچ ڈی کماراسوامی، اپوزیش لیڈر بی ایس یڈیورپا سمیت کئی اہم شخصیات ان کی آخری رسومات کے موقع پرموجود تھیں۔111 سالہ شیوکمارسوامی جی نے طویل علالت کے بعد کل دوپہراپنے ہی مٹھ میں آخری سانس لی۔ ان کے انتقال کے بعد ریاست بھرمیں تین دن کے سوگ کا اعلان کیا گیا اورآج ایک روزہ سرکاری تعطیل منائی گئی۔

سِد گنگا مٹھ کے تحت انہوں نے ایک سو سے زائد تعلیمی ادارے قائم کئے۔ ہزاروں طلبا کو قیام اور طعام کے ساتھ معیاری تعلیم فراہم کرنے کی کوشش کی۔ شیوکمارسوامی جی ایک سیکولرسوچ رکھتے تھے۔ ان کے ایک سوسے زائد تعلیمی اداروں میں ہندو، مسلم، عیسائی مذاہب کے طلبا تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ان کے انتقال پرکرناٹک کے مسلمان بھی دکھ اور درد کا اظہارکررہے۔

معروف مسلم دانشور سید شفیع اللہ نے کہا کہ ان کے تعلیمی اداروں میں مسلم طلبا کواپنے مذہب پرپابند رہنےکی مکمل آزادی تھی۔ رمضان کے دوران طلبا کوسحری اورافطارکیلئے قریب کی مسجدوں میں طلبا کوبھیجنے کا انتظام بھی مٹھ کی جانب سے کیا گیا ہے۔ سید شفیع اللہ نے کہاکہ ڈاکٹرشیوکمارسوامی جی اردوزبان سے بھی واقف تھے۔ انہوں نے اپنے مٹھ کے اندررہ کرباقاعدہ اردوزبان بھی سیکھی تھی اوراسلام کی تعلیمات سے بھی سوامی جی واقف تھے۔

بنگلورو کے سماجی کارکن عالم پاشا کہتے ہیں کہ تقریبا تین سال قبل وہ اپنی بیٹی کی شادی کا رقعہ لیکرسِد گنگا مٹھ گئے تھے۔ اس وقت سوامی جی سے ملاقات کی۔ سوامی جی نے شادی کا رقعہ پڑھا۔ عالم پاشا نے کہاکہ سوامی جی نے بغیرچشمے کے رقعہ پڑھا، جسے دیکھ کر اُنہیں حیرت ہوئی۔ عالم پاشاہ کی بیٹی کی شادی میں سوامی جی نے شرکت تو نہیں کی، لیکن اپنی نیک خواہشات کے ساتھ انہیں مکتوب روانہ کیا۔ سابق مرکزی وزیرسی ایم ابراہیم بھی سِد گنگا مٹھ کے تعلیمی ادارے سے فارغ ہوئے ہیں۔

 

ایک نظر اس پر بھی

مودی نے سیاسی فائدہ کیلئے ’منگل سوتر‘ پر تبصرہ کیا: وزیر اعلیٰ سدارمیا

  کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دعوے کہ اگر کانگریس اقتدار میں آئی تو خواتین کا منگل سوتر چھین لیا جائے گا،کو مسترد کرتے ہوئے کہا اسے ووٹ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ یہ سیاسی طور پر من گھڑت کہانی ہے۔

کرناٹک میں جنسی استحصال کے معاملے پر مودی کی خاموشی خطرناک ہے: راہل گاندھی

  کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بدھ کے روزوزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کرناٹک میں خواتین کے خلاف بہیمانہ جنسی مظالم ہو رہے ہیں لیکن مسٹر مودی نے اس معاملے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے جو کہ خطرناک ہے۔

ہاتھ کو ووٹ دیجیے کیونکہ ہاتھ ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتا ہے، کمل کا پھول صبح توڑو شام تک مرجھا جاتا ہے: ملکارجن کھرگے

لوک سبھا انتخاب کے پیش نظر سبھی پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران انتخابی تشہیر میں مصروف ہیں۔ آج کانگریس صدر ملکارجن کھرگے چھتیس گڑھ اور کرناٹک پہنچ کر وہاں کی عوام سے براہ راست مخاطب ہوتے ہوئے انڈیا اتحاد کے امیدواروں کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔ انھوں نے کرناٹک کے کلبرگی میں تقریر ...

پرجو َل ریونّا پارٹی سے معطل ، ملک سے فرار پر سوال، قومی خواتین کمیشن حرکت میں آیا، رپورٹ مانگی

کرناٹک میں   این  ڈی اے کے ایم پی اور موجودہ امیدوار  پرجول ریونّا  کےسیکس اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد  بی  جےپی اور شیوسینا کیلئے اپنا منہ چھپانا مشکل ہوگیا ہے مگر دونوں ہی پارٹیاں ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُلٹا کانگریس کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔

کرناٹک میں’’ پرجول ریونّا ‘‘ کا اسکینڈل ملک کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا جنسی اسکینڈل؛ وائرل ویڈیو زاور پین ڈرائیو کا چرچا

پچھلے چار پانچ دنوں سے ریاست کرناٹک میں وائرل ویڈیو اور پین ڈرائیو کا چرچا ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق  بہت سے فحش ویڈیوز وہاٹس ایپ گروپس میں گردش کر رہے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک پین ڈرائیو ہے جس میں ہزاروں ویڈیوز موجود ہیں۔ ریاستی حکومت نے معاملے کی جانچ ایس آئی ٹی کو ...

پرجول ریونّا جے ڈی ایس سے معطل، ریاست کی حکمراں کانگریس کی گھیرا بندی سے پارٹی بیک فٹ پر

جے ڈی ایس لیڈر اور ہاسن سے این ڈی اے کے امیدوار پرجول ریوناّ کی خواتین کے ساتھ فحش ویڈیوز نے کرناٹک ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ ان ویڈیوز کے منظرعام پر آنے کے بعد حکمراں کانگریس نے جے ڈی ایس و بی جے پی سے سخت سوالات کیے جس کے بعد جے ڈی ایس نے پرجول کو پارٹی سے ...