سینیٹ سے جج کیوینو کی توثیق صدر ٹرمپ کی بڑی فتح

Source: S.O. News Service | By Staff Correspondent | Published on 8th October 2018, 8:28 PM | عالمی خبریں |

واشنگٹن8اکتوبر ( آئی این ایس انڈیا؍ایس او نیوز ) امریکہ کی سینیٹ نے 48 کے مقابلے میں 50 ووٹوں کے ساتھ سپریم کورٹ کے جج کے عہدے کے لیے بریٹ کیوینو کی نامزدگی کی توثیق کر دی ہے۔اس توثیق کے ساتھ ہی حالیہ تاریخ کی پر خراش اور بہت قریب سے دیکھی جانے والی نامزدگی کی جنگوں میں سے ایک اپنے انجام کو پہنچ گئی ہے۔امریکی نمائندے مائیکل بومین کی رپورٹ کے مطابق اس قضیے کا نتیجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑی فتح کی صورت میں سامنے آیا ہے جس کے دور رس سیاسی اثرات ہو سکتے ہیں، وہ بھی ایسے وقت جب وسط مدتی انتخابات میں صرف ایک ماہ باقی ہے۔بریٹ کیوینو نے خود پر لگے ناروا جسنی رویے کے الزامات کے خلاف مزاحمت کی جس نے پہلے سے جماعتی بنیادوں پر برہم سینٹ کو مزید برانگیختہ کر دیا۔ لیکن اب وہ سپریم کورٹ کے نئے جج کا عہدے پر فائز ہو چکے ہیں۔ہفتے کو بریٹ کیوینو کی نامزدگی کی توثیق کے لیے ووٹنگ کے موقع سینیٹ کے ایوان کے اندر اور باہر احتجاج ہوتا رہا۔سینیٹ کے ایک ڈیموکریٹ اور دو سے تین ایسے ری پبلکن ارکان نے جنہوں نے کیوینو کی حمایت یا مخالفت کا پہلے فیصلہ نہیں کر رکھا تھا، جمعے کو ان کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا جس کے بعد ان کی توثیق کی راہ میں حائل آخری رکاوٹ بھی دور ہوگئی تھی۔ری پبلکن سینیٹر سوزن کالنز نے یہ کہہ کر جج کیوینو کی نامزدگی کے حق میں ووٹ دینے کا اعلان کیا تھا کہ وہ نہیں سمجھتیں کہ یہ الزامات کیوینو کو سپریم کورٹ کے جج کی حییثیت سے خدمات انجام دینے سے روک سکتے ہیں۔ایک ہفتہ قبل یونیورسٹی پروفیسر کرسٹین بلاسی فورڈ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے عدلیہ میں اپنا بیانِ حلفی دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیوینو نے ان کے ساتھ 1982 میں اس وقت دست درازی کی کوشش کی تھی جب وہ دونوں کالج کے طالبِ علم تھے۔جج کیوینو نے سختی سے اس الزام کی تردید کی تھی۔ ایف بی آئی کی ایک ہفتے پر مشتمل محدود تحقیقات میں بھی مبینہ طور پر اس الزام کی حمایت میں کوئی قابلِ ذکر شہادت نہیں ملی تھی جس کے بعد تمام ری پبلکن سینیٹرز نے جج کیوینو کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔سپریم کورٹ کے جج کی نامزدگی کی اس جنگ پر پوری امریکی قوم شش و پنج میں مبتلا رہی اور لوگوں کی طرف سے سخت جذبات کا اظہار کیا گیا۔ڈیموکریٹ سینیٹر کرسٹین گلیبرینڈ کے بقول آج پورے ملک میں دسیوں لاکھوں خواتین کے لیے ایک تکلیف دہ دن ہے۔ ان کی آواز سنی جائے گی۔ وہ احتجاجی مارچ کریں گی۔ وہ ٹاون ہالز میں شرکت کر رہی ہیں۔ری پبلکن سینیٹر جان کارنی کہتے ہیں کہ ہم نے جو چند ایک حربے دیکھے ہیں۔ سینیٹرز پر راہداریوں میں جملے کسے جاتے ہیں۔ ان پر چیخا چلایا جاتا ہے۔ اس چیز کو نیا معمول نہیں بننے دینا چاہیے۔ ہم ایسی چال بازیوں کو اعزاز نہیں بخشیں گے۔وہ لوگ جو کیوینو کی سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے تعیناتی اور سپریم کورٹ میں قدامت پسندوں کی اکثریت ہو جانے پر نالاں ہیں، ان کے لیے ڈیموکریٹس کا ایک سادہ سا پیغام ہے کہ ووٹ دیجیے۔بریٹ کیوینو کی توثیق کے بعد ڈیموکریٹ سینیٹر ڈک ڈربن نے کہ کہ کل ایک نیا دن ہو گا۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ ایسی جمہوریت میں رہتے ہیں جو ہماری آزادیوں کا تحفظ کرتی ہے اور ہمارے شہریوں کو پولنگ اسٹیشنز پر حرفِ آخر کہنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ آئندہ ماہ ہونے والے وسط مدتی انتخابات اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کس پارٹی کا کنٹرول ہوگا؟ انتخابی جائزے ثابت کر رہے ہیں کہ کیوینو کے مسئلے پر تند و تیز جنگ نے ڈیموکریٹک اور ری پبلکن پارٹی کے بنیادی حامی ووٹروں کو تازہ دم کر دیا ہے۔جو جماعت بھی اس جوش و خروش کو برقرار رکھے گی، وہ قوی امکان ہے کہ نومبر کے انتخابات میں اس کے ثمرات پائے گی۔

ایک نظر اس پر بھی

انیس عامری ایک ’دہشت گرد سیل‘ کا حصہ تھا: جرمن میڈیا

برلن میں دو برس قبل ایک کرسمس مارکیٹ پر ٹرک کے ذریعے حملہ کرنے والا انیس عامری’تنہا بھیڑیا‘ نہیں تھا بلکہ ممکنہ طور پر اس کا تعلق ایک سلفی سیل سے تھا، جس نے اسے اس حملے میں مدد دی تھی۔جرمن میڈیا پر ہفتے کے روز سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق برلن کرسمس مارکیٹ حملے کے فقط دو ...

فرانسیسی شہروں میں زرد جیکٹوں والے مظاہرین کا احتجاج

فرانس کے مختلف شہروں میں زرد جیکٹوں والے حکومت مخالف مظاہرین مسلسل پانچویں ویک اینڈ پر احتجاج کے لیے جمع ہیں۔ صدر ایمانوئل ماکروں کی حکومت کے خلاف مظاہروں کا یہ سلسلہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر شروع ہوا تھا۔ فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں مظاہرین کی پرتشدد کارروائیوں کو ...

سری لنکا کے برخاست وزیراعظم پر پارلیمان کا اعتماد

رواں برس اکتوبر میں برخاست کیے جانے والے سری لنکن وزیراعظم رانیل وکرمے سنگھے نے پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا ہے۔ آج بدھ کو ہونے والی رائے شماری میں 225 رکنی ایوان میں وکرمے سنگھے کی حمایت میں 117 اراکین نے ووٹ ڈالا

امریکی فوج نے شمالی شام میں مبصر چوکیاں قائم کر دیں

امریکی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اْس کی افواج نے شمالی شام میں مبصر چوکیاں قائم کر دیں ہیں۔ اس اعلان میں ان چوکیوں کی تعداد اور مقامات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ اسی علاقے میں شامی کردوں کی ملیشیا وائی پی جی ایک بڑے علاقے پر قابض ہے

برطانوی وزیر اعظم کو درپیش قیادت کا چیلنج: کیوں اور کیسے؟

برطانوی پارلیمان کے ارکان نے قدامت پسند وزیر اعظم ٹریزا مے کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی ہے، جس پر رائے شماری آج بدھ بارہ دسمبر کو ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ تحریک پیش کیے جانے کے بعد اب ہو گا کیا ۔برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے اسی ہفتے پیر کا دن یورپ کے مختلف ممالک کے ...