ایران میزائل پروگرام پر سمجھوتہ نہیں کرے گا، حسن روحانی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 23rd September 2017, 12:11 AM | عالمی خبریں |

تہران ،22؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ایرانی صدر حسن روحانی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ تہران حکومت اپنی میزائل پروگرام کو وسعت دیتا رہے گا۔ مسلح افواج سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے بائیس ستمبر بروز جمعہ تہران میں ایک فوجی پریڈ سے خطاب میں کہا کہ تہران حکومت نہ صرف اپنے میزائل پروگرام کو مزید بہتر اور مؤثر بنائے گی بلکہ ساتھ ہی فضائیہ اور بحری افواج کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش جاری رہے گی۔مسلح افواج سے خطاب میں روحانی نے امریکی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا، ’’جب بات اپنے ملک کے دفاع کی ہو گی تو تو ہمیں کسی کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہو گی۔‘‘

اس قومی فوجی پریڈ میں پاسدارانِ انقلاب نے دو ہزار کلومیٹر تک نشانہ بنانے والے ایک بیلسٹک میزائل کی نمائش بھی کی ہے۔ پریڈ میں پاسداران انقلاب کے ایئر اسپیس شعبے کے سربراہ جنرل امیر علی حاجی زادہ نے بتایا کہ اس بیلسٹک میزائل کا نام ’خرم شہر‘ رکھا گیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس پریڈ میں ایران نے اپنی عسکری طاقت کی بھروپور انداز میں نمائش کی۔اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سِپری) کے مطابق جوہری ہتھیاروں کی تعداد کے معاملے میں روس سب سے آگے ہے۔ سابق سوویت یونین نے اپنی طرف سے پہلی بار ایٹمی دھماکا سن 1949ء میں کیا تھا۔ سابق سوویت یونین کی جانشین ریاست روس کے پاس اس وقت آٹھ ہزار جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

سن انیس سو اسی میں عراق کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کی یاد میں منعقد کی جانے والی اس فوجی پریڈ میں خطاب کرتے ہوئے روحانی نے کہا کہ ملکی دفاع کو مضبوط بنانا ضروری ہے کیونکہ اسی صورت ملک کی سلامتی اور خودمختاری قائم رہ سکتی ہے۔انہوں نے اصرار کیا کہ علاقائی سطح پر طاقت کا توازن برقرار رہنا چاہیے۔ سن انیس سو اسی میں عراق کے ساتھ شروع ہونے والی یہ جنگ آٹھ سال تک جاری رہے تھی، جس میں دونوں ممالک کو شدید نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ تب عراق کے صدر صدام حسین تھے۔

روحانی نے مزید کہا کہ عالمی طاقتوں سے سن دو ہزار پندرہ میں طے پانے والی ڈیل پر دوبارہ مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ جب اس ڈیل کو حتمی شکل دی گئی تھی تو اس وقت امریکا کے صدر باراک اوباما تھے لیکن ان کے اقتدار سے سبکدوش ہونے کے بعد نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ڈیل پر تنقید کرتے ہیں بلکہ انہوں نے اسے ’شرمندگی‘ بھی قرار دے دیا ہے۔ناقدین کے مطابق نئی امریکی انتظامیہ اس ڈیل کو ختم بھی کر سکتی ہے۔ اگرچہ امریکی صدر اس ڈیل پر دوبارہ مذاکرات کرنے پر زور دے رہے ہیں تاہم عالمی طاقتیں اس تناظر میں ٹرمپ کے ساتھ نہیں ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی