ریاستی وزارت سے مہیش کا استعفیٰ منظور

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 16th October 2018, 12:02 AM | ریاستی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بنگلورو،15؍اکتوبر(ایس او نیوز) پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس اور بی ایس پی کے درمیان مفاہمت کی کوشش ناکام ہوجانے کے نتیجے میں ریاستی کابینہ سے استعفیٰ دینے والے بی ایس پی کے وزیر این مہیش کو استعفیٰ واپس لینے کے لئے منانے میں جے ڈی ایس قیادت کی کوشش ناکام ہوجانے کے بعد آج وزیراعلیٰ نے مہیش کا استعفیٰ منظوری کے لئے گورنر کو روانہ کردیا اور گورنر نے استعفیٰ منظور بھی کرلیا۔ قومی سطح پر ہورہی سیاسی تبدیلیوں کے پیش نظر مہیش نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد بھی وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی اور کانگریس کے چند لیڈروں نے مہیش کو اس بات کے لئے منانے کی کوشش کی کہ وہ ریاستی سطح پر جو حالات ہیں ان کی بنیاد پر اپنے استعفے کے فیصلے کو واپس لینے پر غور کریں۔

تاہم بتایاجاتاہے کہ بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری ستیش مشرا نے خود وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی کو فون کرکے گزارش کی کہ وہ ریاستی کابینہ سے مہیش کے استعفے کو منظور کرلیں۔اس گزارش کے بعد وزیر اعلیٰ نے مہیش کا استعفیٰ منظوری کے لئے گورنر کو روانہ کردیا۔ وزیر اعلیٰ نے خود استعفیٰ منظور کئے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ استعفے کے باوجود ریاست میں جے ڈی ایس کے ساتھ بی ایس پی کا اتحاد برقرار رہے گا اور مہیش کے استعفے سے مخلوط حکومت کے استحکام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ قومی سطح پر پیش آرہے چند سیاسی واقعات کی وجہ سے بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے مہیش کو استعفٰیٰ دینے کی ہدایت دی ہے اور پارٹی کے ایک وفادار سپاہی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے مہیش نے وزارت سے استعفیٰ دیاہے، یہ ان کی پارٹی کا داخلی معاملہ ہے اسی لئے وہ اس پر زیادہ بحث کا حصہ بننا مناسب نہیں سمجھتے۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار بوٹ حادثہ: زندہ بچنے والوں نے کیا حیرت انگیز انکشاف قریب سے گذرنے والی بوٹوں سے لوگ فوٹوز کھینچتے رہے، مدد نہیں کی؛ حادثے کی وجوہات پر ایک نظر

کاروار ساحل سمندر میں پانچ کیلو میٹر کی دوری پر واقع جزیرہ کورم گڑھ پر سالانہ ہندو مذہبی تہوار منانے کے لئے زائرین کو لے جانے والی ایک کشتی ڈوبنے کا جو حادثہ پیش آیا ہے اس کے تعلق سے کچھ حقائق اور کچھ متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں۔ سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ کشتی جب  اُلٹ ...

گرفتاری کے خوف سے رکن اسمبلی جے این گنیش روپوش

بڈدی کے ایگل ٹن ریسارٹ میں ہوسپیٹ کے رکن اسمبلی آنند سنگھ پر حملہ کرنے والے رکن اسمبلی جے این ۔ گنیش کے خلاف بڑدی پولیس تھانہ میں ایف آئی آر داخل کرنے کی خبر کے بعد سے گنیش لاپتہ ہیں ۔

وسویشوریا یونیورسٹی رجسٹرار پر200کروڑ کے گھپلے کا الزام گورنر نے چھان بین کے لئے وظیفہ یاب جج کو مقرر کیا ۔ تعاون کرنے ملزم کو ہدایت

وسویشوریا ٹکنالوجیکل یونیورسٹی (وی ٹی یو) کے رجسٹرار اب مشکل میں پڑگئے ہیں۔ گورنر واجو بھائی روڈا بھائی والا نے جو یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں،200کروڑ روپئے تک کے گھوٹالے کی چھان بین کا حکم دیا ہے۔

لنگایت طبقہ کے مذہبی رہنما شیوکمارسوامی کی آخری رسومات ادا، اسلامی تعلیمات اوراردو زبان سے بھی تھی واقفیت

یاست کرناٹک کی ایک عظیم شخصیت، لنگا یت طبقہ کے مذہبی رہنما، شیوکمارسوامی جی کی آج آخری رسومات انجام دی گئیں۔ بنگلورو کے قریب واقع ٹمکورشہرمیں شیوکمارسوامی جی کولنگایت رسومات کے مطابق دفنایا گیا۔ سدگنگا مٹھ میں آج اورکل لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے سوامی جی کا آخری ...

ملک کو ایک باضابطہ دانشمندانہ انتخابی نظام کی ضرورت ہے آئین جمہوریت کی حفاظتی حصار ہے۔ اقلیت واکثریت کے توازن کو برقرار رکھنے پر حامد انصاری کازور

سابق نائب صدر جمہوریہ ہند حامدانصاری نے کہا کہ ملک کو ایک باضابطہ سمجھدار انتخابی نظام کی ضرورت ہے ، شفاف انتخابی ماڈیول کو فروغ کی سمت بھی کوشش ہونی چاہئے ۔

پُتور میں پیک آپ کار کی اومنی سے خطرناک ٹکر؛ ایک کی موت، دو شدید زخمی

ماروتی اومنی اور  پیک آپ کے درمیان ہوئی خطرناک ٹکر کے  نتیجے میں اومنی پر سوار ایک شخص کی موت واقع ہوگئی، جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا، حادثے میں پیک آپ کار ڈرائیور کو بھی چوٹیں آئی ہیں ۔ حادثہ منگل صبح مُکوے مسجد کے سامنے   پیش آیا۔

شیرور میں کار کی ٹکر سے بائک سوار کی موت

پڑوسی علاقہ شیرور نیشنل ہائی وے پر ایک کار کی ٹکر میں بائک سوار کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی جس کی شناخت محمد راشد ابن محمد مشتاق (21) کی حیثیت سے کی گئی ہے جو شیرور  بخاری کالونی کا رہنے والا تھا۔

ہائی کمان کہے تو وزارت چھوڑ نے کیلئے بھی تیار : ڈی کے شیو کمار

ریاست میں سیاسی گہما گہمی کا فی تیز ہونے لگی ہے ۔ ایک طرف جہاں کانگریس اور جنتادل( سکیولر) اپنی مخلوط حکومت کو بچانے میں لگے ہیں وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) نے آپریشن کنول کے ذریعہ دیگر پارٹیوں کے اراکین اسمبلی کو خریدکر برسر اقتدار آنے کے حربے جاری رکھے ہیں۔