پوپ فرانسس روہنگیا مسلمانوں کی داستانیں سن کر آبدیدہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 3rd December 2017, 7:42 PM | عالمی خبریں |

دبئی ،3دسمبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا)مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کے بحران سے دوچار ملک کا دورہ کرنے کے دوران وہ لوگوں کی داستانیں سُن کر رو پڑے جہاں اقلیت کو "نسلی تطہیر" کا سامنا ہے۔پوپ ویٹی کن نے ہفتے کے روز بتایا کہ میانمار اور بنگلہ دیش کا دورہ کرنے کے لیے انہوں نے یہ شرط رکھی تھی کہ روہنگیا افراد سے ان کی ملاقات کرائی جائے۔ ملاقات کے موقع پر متاثرہ افراد نے پوپ کو براہ راست اپنی مشقّت کی استان سنائی۔روہنگیا افراد کے ساتھ پوپ کی ملاقات کو میانمار سے فرار ہونے والی مسلم اقلیت کے ساتھ یک جہتی کا اہم علامتی اقدام شمار کیا جا رہا ہے۔ روم واپسی کے سفر میں پوپ نے طیارے میں صحافیوں کو بتایا کہ اُن سے ملاقات کرنے والے پناہ گزیں بھی رو پڑے تھے۔اپنی صاف گوئی کے حوالے سے معروف پوپ میانمار کے دورے میں محتاط سفارت کاری پر انحصار کرنے پر مجبور ہو گئے۔ تاہم بنگلہ دیش میں انہوں نے موضوع پر براہ راست بات کی اور ڈھاکا میں بعض روہنگیا پناہ گزینوں سے پُر اثر ملاقات کی۔ ان افراد کا تعلق بنگلہ دیش کے جنوب میں واقع پناہ گزین کیمپوں سے تھا۔پوپ نے روہنگیا مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ " جن لوگوں نے آپ کو اذیت اور تکلیف سے دوچار کیا میں ان کی طرف سے آپ لوگوں سے معافی کا طلب گار ہوں بالخصوص دنیا کی بے پروائی کے بیچ۔پوپ نے روہنگیا کا لفظ پہلی مرتبہ بنگلہ دیش میں استعمال کیا۔ اس سے قبل ینگون کے پادریوں کے سربراہ پوپ کو نصیحت کر چکے تھے کہ میانمار میں اس لفظ کا استعمال کشیدگی بھڑکا سکتا ہے اور اس سے مسیحیوں کے لیے خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ گزشتہ تین ماہ میں 6.2 لاکھ سے زیادہ روہنگیا باشندے بنگلہ دیش کے جنوب میں پہنچے۔ ان لوگوں نے میانمار میں فوج کے آپریشن کے سبب راہ فرار اختیار کی۔ اقوام متحدہ اس آپریشن کو نسلی تطہیر کی کارروائی شمار کرتی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی