فلپائن کے صدر ہتھیاروں کی خرید کے مقصد سے اسرائیل کے دورے پر

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 4th September 2018, 12:56 PM | عالمی خبریں |

لندن 4ستمبر ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) متنازعہ شخصیت کے مالک فلپائن کے صدر روڈریگو دوتیرتے اتوار کی شام اسرائیل پہنچ گئے۔ یاد رہے کہ فلپائن مشرق بعید کا واحد ملک تھا جس نے 1947میں اقوام متحدہ میں اسرائیل کی ریاست کی تاسیس کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ تاہم اْس وقت کے فلپائنی صدر Manuel Roxas فلسطینی اراضی پر غاصبانہ اسرائیلی ریاست کے قیام سے ایک ماہ قبل اچانک نیویارک میں انتقال کر گئے تھے۔ فلپائن کے 28 ہزار کے قریب شہری اسرائیل میں مقیم ہیں۔ ان میں زیادہ تر کا تعلق نرسنگ کے پیشے سے ہے۔

فلپائن نے نازی جرمنی سے فرار ہونے والے 1300 سے زیادہ یہودیوں کو پناہ دی تھی۔ ان یہودیوں میں موجودہ صدر روڈریگو کی سابقہ اہلیہElizabeth Zimmerman کے دادا بھی شامل تھے۔ الزبتھ 1948 میں فلپائن میں پیدا ہوئی تھیں۔ الزبتھ جو 2015 سے چھاتی کے سرطان میں مبتلا ہیں، انہیں روڈریگو نے 2000 میں طلاق دے دی تھی۔ اس کے بعد وہ ایک 48 سالہ فلپینی خاتون کے ساتھ رہتے ہیں۔ روڈریگو کے حالیہ دورہ اسرائیل میں اْن کے ہمراہ 400 افراد پر مشتمل وفد ہے۔ اس وفد کے لیے مقبوضہ بیت المقدس میں واقع ہوٹلRamada کو مکمل طور پر بْک کر لیا گیا ہے۔ وفد میں روڈریگو کی بیٹیSara Duterte Carpio شامل ہیں جو فلپائن کے جنوبی شہر Davao کی میئر بھی ہیں۔ روڈریگو کا اسرائیل کا دورہ بدھ تک جاری رہے گا جس کے بعد وہ اْسی روز چار روزہ دورے پر اردن پہنچیں گے۔

اردن میں فلپائن کے صدر شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کریں گے۔فلپائن نے چند ماہ قبل اسرائیل کے ساتھ ہتھیاروں کا پہلا معاہدہ کیا تھا جو کہ امریکا سے باہر اسلحے کا ذریعہ تلاش کرنے کی کوشش ہے۔ فلپائن نے اسرائیل کی تیار کردہ بندوق Galil پر اعتماد کیا ہے جو وہ اپنے ملک میں 1.2 لاکھ پولیس اور سکیورٹی اہل کاروں کو فراہم کرے گا۔ رواں برس اپریل میں روڈریگو کی ایک تصویر منظر عام پر آئی تھی جس میں وہ یہ ہی بندوق ہاتھ میں تھامے نظر آ رہے ہیں۔

اسرائیل پہنچنے سے قبل روڈریگو نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان دفاع، سکیورٹی، قانون کے نفاذ، اقتصادی ترقی، تجارت، سرمایہ کاری اور افرادی قوت کے شعبوں میں تعاون چاہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اْن کی بات چیت کے ایجنڈے میں سرفہرست امر اردن اور اسرائیل میں موجود فلپینی شہری ہیں جن کی تعداد 76 ہزار ہے۔ روڈریگو کے مطابق فلپائن کے سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا معاملہ کسی طور زیر بحث نہیں آئے گا، اس لیے کہ خطّے میں ہمارے دیگر شراکت دار بھی ہیں۔ یہ تفصیلات خبر رساں ایجنسیوں نے فلپائن کی وزارت خارجہ کے ایک ذمّے دار کے حوالے سے بتائی ہیں۔ مذکورہ ذمّے دار کے مطابق صدر روڈریگو فلپائن کے دارالحکومت منیلا سے اسرائیل میں لْد کے بن گوریون ایئرپورٹ کے لیے براہ راست فضائی پروازیں شروع کرنے پر بات چیت کریں گے۔ فلپائن کے 73 سالہ صدر روڈریگو اسرائیل کے دورے میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور صدر رووین ریفلین سے ملاقات کریں گے۔ علاوہ ازیں دورے میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے تین سمجھوتوں پر دستخط کیے جانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

ایس بی آئی برطانیہ میں قانونی جنگ میں ٹیکس دہندگان کا پیسہ برباد کر رہا ہے : مالیا 

مسائل میں گھرے شراب کاروباری وجے مالیا نے ایک بار پھر سے قرض لوٹانے کی پیشکش اپنی بات دہرانے کے لئے سوشل میڈیا کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے SBI پر بھارتی ٹیکس دہندگان کا پیسہ برطانیہ میں مقدمے پر برباد کرنے کا الزام لگایا۔ برطانیہ کے ہائی کورٹ نے 63 سالہ مالیا کے لندن کے بینک اکاؤنٹ ...

تھائی لینڈ میں نوجوان جرمن خاتون سیاح کا ریپ کے بعد قتل

تھائی لینڈ میں جرمنی سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون سیاح کو ریپ کے بعد قتل کر دیا گیا۔ تھائی پولیس نے ایک مبینہ ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، جس نے اس چھبیس سالہ سیاح کو ریپ کے بعد قتل کرنے کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک سے پیر آٹھ اپریل کو ملنے والی جرمن ...

جنگ مسلط کردہ یمن میں ہیضہ کی وبا، ویکسین رسائی کی منتظر

جنگ زدہ ملک یمن میں ہیضے کی ہلاکت خیز وبا کئی ملین افراد کو متاثر کر چکی ہے لیکن اقوام متحدہ کے اہلکاروں کو اب تک ادویات پہنچانے کی اجازت نہیں مل پائی۔یمن میں لاکھوں افراد ہیضے کے مرض میں مبتلا ہیں اور اب بھی ہر روز ہزاروں نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ سن 2017 کے موسم گرما میں اقوام ...

بوئنگ 737 طیاروں کے سافٹ ویئر کو مزید بہتر بنانے کی منظوری

 امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے بوئنگ 737 میکس طیاروں کے سافٹ ویئر کو بہتر بنانے اور پائلٹوں کی تربیت میں تبدیلی کی منظوری دے دی ہے۔ یہ رپورٹ مقامی میڈیا نے دی ہے۔ دو بڑے حادثوں کے بعد کئی ممالک نے ان طیاروں کی پرواز پر روک لگا دی ہے۔