شمالی کوریا: یومِ آزادی پر میزائلوں کے بغیر فوجی پریڈ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th September 2018, 1:41 PM | عالمی خبریں |

پیانگ یانگ،10؍ ستمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)شمالی کوریا کے قیام کی 70 ویں سال گرہ کے موقع پر اتوار کو پیانگ یانگ میں ایک بڑی فوجی پریڈ منعقد ہوئی لیکن ماضی کی طرح اس بار اس پریڈ میں بین البراعظمی میزائلوں کی نمائش نہیں کی گئی۔ ملٹری پریڈ کا اہتمام پیانگ یانگ کے کم اِل سنگ اسکوائر میں کیا گیا تھا جس میں جدید اسلحہ بھی نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ پریڈ کے دوران ہزاروں فوجی اہلکاروں نے مارچ پاسٹ کرتے ہوئے ملک کے سربراہ کم جونگ ان کو سلامی دی جو سلامی کے چبوترے پر چین کے خصوصی ایلچی لی ڑان شو کے ہمراہ موجود تھے۔لی ڑان شو چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ ترین سات رکنی ادارے 'پولٹ بیورو' کے رکن ہیں جو شمالی کوریا کے قیام کی تقریبات میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر پیانگ یانگ پہنچے ہیں۔ کم جونگ ان نے اس بار پریڈ کے شرکا سے خطاب نہیں کیا۔ البتہ پریڈ کے اختتام پر شمالی کوریا کے سربراہ اور مہمان چینی رہنما نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر اظہارِ یکجہتی کے لیے فضا میں بلند کیا۔شمالی کوریا نے 9 ستمبر 1948 کو اپنے قیام کا اعلان کیا تھا۔ آزادی کے اس اعلان سے تین سال قبل جنگِ عظیم دوم کے اختتام پر امریکہ اور روس نے جزیرہ نما کوریا آپس میں تقسیم کرلیا تھا جس کا نصف شمالی حصہ سوویت یونین جب کہ جنوبی حصہ امریکہ کے زیرِ انتظام تھا جو بعد میں جنوبی کوریا بن گیا تھا۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق پریڈ کا آغاز 21 توپوں کی سلامی سے ہوا جس کے بعد انفنٹری یونٹ کے درجنوں دستے مارچ پاسٹ کرتے ہوئے سلامی کے چبوترے کے سامنے سے گزرے۔ پریڈ میں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، راکٹ لانچرز اور دیگر ہتھیار بھی پیش کیے گئے جب کہ شمالی کوریا کی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے پریڈ گراو?نڈ پر پروازیں کی اور فضا میں کرتب دکھائے۔ پریڈ کے اختتام پر میزائلوں کی نمائش کی گئی لیکن ماضی کے برعکس اس بار صرف چھوٹے میزائل ہی نمائش کے لیے پیش کیے گئے۔ پریڈ میں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے علاوہ 'ہواسونگ 150 14' اور 'ہوا سونگ 150 15' نامی بین البراعظمی میزائل بھی شامل نہیں تھے جو شمالی کوریا کے دعووں کے مطابق امریکہ تک مار کرسکتے ہیں۔ان میزائلوں کی سالانہ پریڈ میں عدم موجودگی کو تجزیہ کار شمالی کوریا کی حکومت کی جانب سے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا ایک اشارہ قرار دے رہے ہیں۔امریکی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ میزائلوں کی نمائش نہ کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے اس وعدے کے متعلق سنجیدہ ہیں جو انہوں نے رواں سال جون میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیساتھ ملاقات میں کیا تھا۔شمالی کوریا کی حکومت نے ملک کے قیام کی سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے کئی سربراہانِ مملکت اور مختلف شعبوں کی نمایاں غیر ملکی شخصیات کو شرکت کی دعوت دی تھی۔لیکن مدعو سربراہانِ مملکت میں سے صرف ایک 150 موریطانیہ کے صدر محمد اولد عبدالعزیز 150 ہی پریڈ میں شریک ہوئے۔البتہ چین کے پولٹ بیورو کے رکن کی پریڈ میں شرکت اور سلامی کے چبوترے پر کم جونگ ان کے ساتھ موجودگی پر مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کااظہار ہوتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر ہورہا ہے کہ شمالی کوریا چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو زیادہ اہمیت اور وسعت دینے کا خواہش مند ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

شمالی کوریا جوہری ہتھیار تلف کرنے پر سنجیدہ لگتا ہے : امریکی خفیہ ادارہ

امریکی ذرائع ابلاغ سے موصولہ ا طلاع کے مطابق امریکہ کے خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) نے کہا ہے کہ اسے ایسے اشارے ملے ہیں جن سے لگتا ہے کہ شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیار تلف کرنے پر واقعی آمادہ ہے

یہودی شرپسندوں کے طرف سے قبلہ اول پر مجرمانہ حملے جاری

فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ میں یہودی آبادکاروں کے دھاوے اور مقدس مقام کی مجرمانہ بے حرمتی کا سلسلہ جاری ہے۔ کل سوموار کو90 یہودی آباد کار اور اسرائیلی فوجی پولیس کی فول پروف سیکیورٹی میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے اور قبلہ اول میں گھس کرنام نہاد مذہبی رسومات کی ...

چین پر امریکی محصولات کا سب سے بڑا پیکج نافذ العمل

امریکا میں چین سے درآمد کی جانے والی 200 ارب ڈالر کی اشیا پر 10% ٹیکس لاگو ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی نمو کے لیے خطرات میں اضافہ ہو گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس ٹیکس کو پیر کے روز عائد کیا۔ توقع ہے کہ چین فوری جواب کے طور پر امریکا سے ہر سال درآمد کی جانے والی 60 ...

ایران نواز ملیشیائیں اسرائیل کی سرحد سے محفوظ مسافت پر ہیں: روس

روس کی وزارت دفاع نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کی ہمنوا فورسز اپنے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ گولان کے پہاڑی علاقے سے اْتر کر شام کے اندر مشرق میں 140 کلومیٹر کی دْوری پر چلی گئی ہیں۔وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ تقریبا 1050 عسکری اہل کار مذکورہ علاقے سے انخلا کے بعد اتنی مسافت پر چلے گئے ہیں ...