’سعودی عرب چودہ شیعہ نوجوانوں کی پھانسی روکے‘

Source: S.O. News Service | Published on 12th August 2017, 10:29 PM | عالمی خبریں |

ریاض12اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)نوبل انعام یافتہ دس شخصیات نے سعودی عرب کے بادشاہ اور ملک کے ولی عہد سے اپیل کی ہے کہ وہ سن دو ہزار بارہ کے مظاہروں میں شرکت کرنے والے چودہ نوجوان افراد کی سزائے موت پر عمل درآمد روکیں۔جمعرات گیارہ اگست کو ان افراد کی جانب سے جاری کردہ ایک خط میں کہا گیا ہے کہ ان چودہ افراد کی سزائے موت پر عمل درآمد ”ایک بڑی ناانصافی کو درست“ ثابت کرے گا۔ ان نوبل انعام یافتہ افراد نے سعودی حکام پر ملزمان سے جبرا اعتراف جرم کرانے اور اْن پر جسمانی تشدد کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔چودہ ملزمان کو پھانسی کی سزا مظاہروں میں شرکت کرنے اور ملکی سکیورٹی فورسز پر حملوں کے الزام میں سنائی گئی ہے۔ تمام چودہ افراد کا تعلق ملک کی شیعہ اقلیت سے ہے۔
 ان نوجوانوں میں سے ایک مجتبیٰ السویخت بھی ہیں جنہیں سعودی ائیر پورٹ سے اْس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ مغربی مشی گن یونیورسٹی جانے کے لیے امریکا روانہ ہو رہے تھے۔ نوبل انعام پانے والے افراد کا کہنا ہے کہ السویخت اْس وقت اٹھارہ برس کا تھا، جب اسے فیس بک پر ایک گروپ چلانے اور مظاہروں کی تصاویر پوسٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان شخصیات کا کہنا ہے کہ زبردستی اعتراف جرم کروانے کے دوران السویخت کا بازو ٹوٹ گیا تھا اور یہ بھی کہ عدالت میں ان ملزمان نے اعترافِ جرم سے انکار کیا۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سزا پر نظرثانی کی اپیل کی سماعت کے دوران ملزمان پر مبینہ جسمانی تشدد کی تحقیقات نہیں کی گئیں، جو اگر درست ثابت ہوتا ہے تو یہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ اسلامی شریعہ قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔
'دی امیریکن فیڈریشن آف ٹیچرز‘ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ ان چودہ نوجوان افراد کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کو رکوایا جائے۔سعودی وزارت انصاف کے ترجمان منصور القفاری نے چار اگست کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب میں وہ تمام افراد جن کے خلاف مقدمات درج کیے جاتے ہیں اْنہیں اپنی صفائی کے لیے مناسب مواقع حاصل ہوتے ہیں۔سعودی عرب میں قدامت پرست مذہبی رہنما ماضی میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کو ’کافر‘ قرار دیتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ شیعہ مظاہرین پر سعودی عرب کے حریف ملک ’ایران کے اتحادی‘ ہونے کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

انجلینا جولی کی عید پرعراق کے شہر موصل کے پناہ گزینوں سے ملاقات

اقوام متحدہ کی پناہ گزین کی خصوصی ایلچی انجلینا جولی نے عراق میں دہشت گردی سے سب سے متاثرہ علاقے موصل کا دورہ کیا اور عالمی برادری سے تباہ حال شہر کے بے گھر رہائشیوں کی دوبارہ اپنے گھروں میں آبادکاری کے لیے مدد کی اپیل کی ہے۔

ننگر ہار: طالبان پر خودکش حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 36 ہو گئی

صوبہ ننگرہار میں کے محکمہ صحت کے ڈائریکٹر نجیب اللہ کماوال کے حوالے سے کہا ہے کہ ہفتہ کو ہونے والے اس حملے میں 65 افراد زخمی بھی ہوئے۔افغان حکام نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے دوران مشرقی صوبہ ننگرہار میں افغان جنگجوؤں کے ایک اجتماع پر خودکش حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 36 ہو گئی ہے۔

جاپان میں.1 6 شدت کا زلزلہ، تین افراد ہلاک

اوساکا اور اس کے گرد و نواح کا شمار جاپان کے اہم ترین صنعتی مراکز میں ہوتا ہے اور زلزلے کے بعد علاقے میں واقع بیشتر کارخانوں میں کام بند کردیا گیا ہے۔جاپان کے دوسرے بڑے شہر اوساکا میں آنے والے 6.1شدت کے زلزلے سے اب تک تین افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے۔

نیو جرسی: آرٹ فیسٹول میں فائرنگ، حملہ آور ہلاک

امریکہ کی ریاست نیو جرسی میں ایک آرٹ فیسٹول کے دوران فائرنگ سے 22 افراد زخمی ہوگئے ہیں جب کہ ایک مبینہ حملہ آور مارا گیا ہے۔حکام کے مطابق واقعہ اتوار کو نیوجرسی کے شہر ٹرینٹن میں پیش آیا جہاں رات بھر جاری رہنے والے آرٹ فیسٹول کے دوران دو متحارب گروہ آپس میں لڑ پڑے۔

افغان طالبان کا جنگ بندی میں توسیع سے انکار

افغان طالبان نے کہا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز سے تین روزہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد اس میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد کے حوالے سے کہا ہے کہ جنگ بندی 17 جون کی رات ختم ہو رہی ہے جس کے بعد طالبان کی کارروائیاں ...

ترک فوج کی عراق میں بمباری، 35 کرد جنگجو ہلاک

ترکی کی مسلح فوج نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ عراق کے شمالی علاقے جبل قندیل میں کرد علاحدگی پسند گروپ کردستان ورکرز پارٹی "PKK" کے ٹھکانوں پر بمباری کے نتیجے میں کم سے کم 35 کرد باغی ہلاک ہو گئے ہیں۔